لاہور 25 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر لیبر و چیئرمین گورننگ باڈی پنجاب سوشل سکیورٹی (پیسی) ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت پیسی گورننگ باڈی کا 174 واں اجلاس ہیڈ آفس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لیبر نعیم غوث، کمشنر پیسی محمد علی سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں مختلف ڈسپنسریز اور مراکز صحت کو اپ گریڈ کرنے اور نئے ادارے قائم کرنے کی منظوری شامل ہے۔ ڈسکہ روڈ ڈسپنسری کو سوشل سکیورٹی بنیادی مرکز صحت سیالکوٹ، ایمرجنسی سنٹر انڈس شوگر ملز کو سوشل سکیورٹی ڈسپنسری، اور پنڈی بھٹیاں ڈسپنسری کو بنیادی مرکز صحت کے درجے پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیکسلا/واہ کینٹ میں نئی سوشل سکیورٹی ڈسپنسری قائم کرنے اور رحیم یار خان میں 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔ گورننگ باڈی نے لاہور ڈیفنس روڈ پر 100 بستروں پر مشتمل کارڈیک ہسپتال کے جلد قیام کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیسی کے بڑے 12 اسپتالوں کو سولر پر منتقل کیا جائے گا، رحمت للعالمین انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں کنسلٹنٹ تھوراسک سرجن اور کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ کی پوسٹوں کی شفٹنگ کی منظوری دی گئی۔ مزید برآں پیسی پنشن ریگولیشنز 2003 اور پیسی گورننگ باڈی قواعد 1966 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ مریم نواز راشن کارڈ ونگ سمیت دیگر ونگز کے لیے پوسٹوں کی شفٹنگ اور 2025-26 میں زائد قیمت پر ادویات کی خریداری کے سپلائی آرڈرز کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں فلڈ ریلیف میڈیکل کیمپس میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں اور سٹاف کو اعزازیہ دینے کی تجویز پیش کی گئی۔ صوبائی وزیر فیصل ایوب کھوکھر نے ہسپتالوں میں ڈینگی کے ممکنہ خدشات کے پیش نظر بہترین انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی میں مبتلا عام شہریوں کو بھی ایمرجنسی طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ورکرز ویلفیئر اسکولز میں بچوں کو ڈینگی سے بچاؤ کے بارے میں تربیتی کلاسز شروع کی جائیں۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔











