وفاقی وزیر احسن اقبال کا اختتامی خطاب، سی پیک فیز۔ٹو کو پاکستان اور چین کی آہنی دوستی کی نئی علامت قرار دیا

17

چین26،ستمبر(اے پی پی )؛پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) کا اجلاس بیجنگ میں اختتام پذیر ہوگیا جس نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو ایک نئے تاریخی موڑ پر پہنچا دیا۔ اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یہ اجلاس نہ صرف گزشتہ پیش رفت کے جائزے کا موقع تھا بلکہ ہمارے مشترکہ عزم اور مستقبل کے روڈ میپ کی ازسرنو توثیق بھی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی نے این ڈی آر سی کے نائب چیئرمین ژو ہائبنگ، چینی میزبانوں اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور عزم نے اجلاس کو ایک نئی سمت دی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ ترقی، جدت، سبز ترقی، روزگار اور علاقائی روابط کی پانچ راہداریوں پر مبنی ہے جنہیں پاکستان کے “اُڑان” کے پانچ ایز (ایکسپورٹس، ای پاکستان، توانائی و ماحولیات، مساوات و بااختیاری) کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔ اس اشتراک سے سی پیک کو صنعت کاری، ٹیکنالوجی، پائیداری اور مشترکہ خوشحالی کا مرکز بنایا جائے گا۔ یہ کوئی نظریاتی خاکہ نہیں بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے جسے “مشترکہ مستقبل کے لیے چین–پاکستان کمیونٹی” کے ایکشن پلان میں ستمبر 2025 میں شامل کیا گیا۔ اس کے تحت صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز، جدید زراعت، سمندری ترقی، معدنیات اور بڑے روابط کے منصوبے جیسے ایم ایل ون ریلوے، قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ اور گوادر کی ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ایم ایل ون ریلوے اور قراقرم ہائی وے کی ری الائنمنٹ جیسے منصوبوں پر فوری عملدرآمد ناگزیر ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بلا تعطل روابط کو یقینی بنائیں گے اور خطے کے لیے وسیع معاشی فوائد لائیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پہلے تین برسوں میں ہر چھ ماہ بعد جے سی سی کا اجلاس اور ہر سہ ماہی میں جوائنٹ ورکنگ گروپس کا انعقاد کیا جائے تاکہ رفتار اور ہم آہنگی برقرار رہے اور سی پیک فیز۔ٹو مقررہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ جیو پولیٹیکل حالات اور مخالف قوتوں کے پروپیگنڈے کے تناظر میں ضروری ہے کہ اجلاس کے منٹس پر فوری اتفاق کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ جے سی سی فیصلہ کن اور نتیجہ خیز ہے۔ اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اگلے 90 دنوں میں سی پیک کا نیا طویل المدتی منصوبہ شائع کیا جائے گا جو پاکستان کے پانچ ایز اور سی پیک کی پانچ راہداریوں کے امتزاج پر مبنی ہوگا۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں چین کو یقین دلایا کہ پاکستان سی پیک کے تمام منصوبوں اور پاکستان میں کام کرنے والے ہر چینی شہری کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک محض ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان اور چین کی آہنی دوستی کی علامت ہے جو استحکام، اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف “ہر موسم کا دوست” بنانے کا منصوبہ نہیں بلکہ 21ویں صدی میں اعلیٰ معیار کی ترقی اور جدت کا شراکت دار بنانے کا بھی نام ہے۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کی قیادت، این ڈی آر سی اور تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے عزم اور مشترکہ وژن کے ساتھ سی پیک کا اگلا عشرہ پہلے سے زیادہ تبدیلیاں لائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سی پیک کی 15ویں جے سی سی مئی 2026 میں اسلام آباد میں ہوگی جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کا حصہ ہوگی۔