ریاض،28اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان رابطے کیلئے پل کی حیثیت رکھتا ہے،حکومت اقتصادی اصلاحات،مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی،برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یہاں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے موقع پر عالمی اقتصادی فورم کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بورگے بغینڈے سے منگل کو ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کی قیادت کی درخواست پر ہوئی جس کا مقصد وزیراعظم کو آئندہ سال جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی باضابط شرکت کی دعوت دینا تھا۔وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کے درمیان مضبوط روابط کو سراہا اور فورم کے عالمی سطح پر کاروباری اور جدت پسند نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ 2026ء کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی دعوت کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان بھرپور نمائندگی کرے گا۔ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے وزیر اعظم نے حکومت کی اقتصادی اصلاحات کا ذکر کیا اور گزشتہ 18 مہینوں میں بہتر میکرو اقتصادی اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی،برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔وزیراعظم نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی ضروری غذائی تحفظ کے مضبوط نظام پر عالمی اقتصادی فورم کی شراکت کا خیرمقدم کیا اور خوشحالی کے لئے امن کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین روابط کے لیے اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔بورگے بغینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار پر وزیر اعظم محمد شہبازشریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دینے کےلئے پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کیلئے پر امید ہیں۔











