اسلام آباد، 20 اکتوبر(اے پی پی ):وفاق کی جانب سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کے فیصلے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اب تک خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے 600 ارب روپے فراہم کر چکی ہے، یہ رقم سول آرمڈ فورسز، سی ٹی ڈی، اور فارنزک لیب کو مضبوط بنانے کے لیے دی گئی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ چھ سو ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، آج تک کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ وفاق نے سیکیورٹی کے لیے گاڑیاں فراہم کیں، مگر معیار کا بہانہ بنا کر واپس کر دی گئیں۔ یہ بلٹ پروف گاڑیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی نوعیت کی گاڑیاں وفاقی وزراء اور اعلیٰ افسران دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں استعمال کر رہے ہیں۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جہاں یہ گاڑیاں استعمال ہوئیں، وہاں جانی نقصان نہ ہونے کے برابر رہا۔ خیبر پختونخوا کے افسران کو نہ ان چھ سو ارب سے کچھ ملا، اور جو کچھ وفاق سے مل رہا ہے وہ بھی چھینا جارہاہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کے اعتراف میں یہ گاڑیاں فراہم کیں۔ جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں کھڑے ہیں۔
یہ گاڑیاں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جوانوں کو محفوظ کرنے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ تیز کرنے کے لیے دی گئیں ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ نابالغ اور ناپختہ سوچ آج پولیس کے جوانوں کیلئے خطرات بڑھا رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کے مکمل صفایا میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ ان گاڑیوں کے ساتھ ساتھ بلٹ پروف جیکٹس، دوربین اور ہتھیار خریدا گیا تھا تاکہ دہشت گردی کا جلد از جلد قلعہ قمع کیا جائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہوفاقی حکومت پوری نیت کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون فراہم کررہی ہے۔ مگر صوبائی حکومت کی بچگانہ سوچ اور سیاسی ضد وفاق کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔











