استنبول میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی وفد نے شواہد پر مبنی جائز اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کیے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

13

اسلام آباد، 07 نومبر (اے پی پی):دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ استنبول میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف پاکستانی وفد نے شواہد پر مبنی جائز اور منطقی مطالبات ثالثوں کے حوالے کیے ہیں جس کا واحد مقصد سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنا ہے۔ جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ پاکستانی وفد کے مذاکرات استنبول میں ثالثوں کی موجودگی اور شرکت کے ساتھ شروع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے ہماری طرف سے فراہم کردہ شواہد کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی بنیاد پر پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ ثالث افغان طالبان کے وفد کے ساتھ پاکستان کے مطالبات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پرکوئی بھی دوسری معلومات بالخصوص افغان ہینڈلرز اور افغان اکاؤنٹس کی جانب سے گردش کرنے والی معلومات یا تو قیاس ہیں یا جان بوجھ کر غلط معلومات ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ ایسی غلط معلومات کو نظر انداز کیا جائے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کے 3 سے 6 نومبر تک دوحہ کے دورے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صدر مملکت قطر کی میزبانی میں سماجی ترقی کے عالمی سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے سربراہی اجلاس سے اپنے اہم خطاب میں تنازعہ جموں و کشمیر اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی ناگزیر ضرورت کو اجاگر کیا، صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگ کئی دہائیوں سے بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ صدر مملکت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے معاملے پر بھی بات کی، بھارت جان بوجھ کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ اور اس عمل سے لاکھوں پاکستانیوں کو ان کے پانی کے حق سے محروم کیا گیا جس سے پاکستان کی خودمختاری کو نقصان پہنچا اور اس کے لوگوں کی معیشت کو خطرہ لاحق ہوا، صدر مملکت نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی۔

ترجمان نے کہا کہ نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں ایک اجلاس کے دوران اپنے عرب اور اسلامی ہم منصبوں کے ساتھ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے امن منصوبے کو آگے بڑھانے پر غور کیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے والے آٹھ عرب اسلامی ممالک میں سے ایک ہے اور وہ اس اقدام سے منسلک رہا جس کے نتیجے میں شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤ ں نے فلسطینیوں کے لیے فوری انسانی امداد کا مطالبہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور القدس شریف کو دارالحکومت کے طور پر ایک آزاد، قابل عمل اور ملحقہ ریاست فلسطین کے قیام کے لیے اپنے اصولی موقف کی توثیق کی۔