اقوامِ متحدہ،11ومبر ( اے پی پی): پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی جانب سے جدید، تباہ کن اور بڑی حد تک ترک کردہ اسلحے کا حصول اور استعمال پاکستان اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بنا ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس برائے ’’غیر قانونی چھوٹے اور ہلکے ہتھیار‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں، جن میں داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) جو اقوامِ متحدہ کی فہرست میں شامل ایک دہشت گرد تنظیم ہے ۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان گروہوں کو خطے کے ایک بڑے تخریبی کردار کی مالی و عملی مدد حاصل ہے، اور یہ اسلحہ پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی پر گہری تشویش ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور افغان عبوری حکام کو اس حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی کوششوں میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنے ردعمل میں موجود خلا کو پُر کرنا ہوگا تاکہ ان خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے جو عالمی و علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے جدید ٹیکنالوجی اور جنگ کے بدلتے ہوئے انداز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل غیر قانونی اسلحے کی تیاری اور پھیلاؤ کے مقابلے میں نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈرونز، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیار، تھری ڈی پرنٹ شدہ بندوقیں، اور جدید نائٹ ویژن آلات کو ایسے مہلک چھوٹے ہتھیاروں کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ روایتی اسلحہ کنٹرول کے نظام کو ان نئی ٹیکنالوجیوں کے تناظر میں جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے “پروگرام آف ایکشن برائے غیر قانونی تجارتِ چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں” پر اپنی بھرپور عملدرآمدی وابستگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت پر قابو پانے اور عالمی و علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون میں اضافہ اور اس فریم ورک کا قومی و عالمی سطح پر مکمل نفاذ ناگزیر ہے۔
پاکستان نے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں بیان کردہ اس حقیقت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ افریقہ ان خطوں میں شامل ہے جو غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور غلط استعمال سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔











