اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا قومی بیان

14

‎ اقوام متحدہ، 31 اکتوبر ( اے پی پی):پاکستان نے  زور دیا کہ انسانی حقوق کونسل  کو محاذ آرائی یا سیاسی مقاصد کے بجائے مکالمے اور تعاون کا فورم بنے رہنا چاہیے۔ پاکستان نے کہا کہ پائیدار امن اور انسانی حقوق کے احترام کا حقیقی تحفظ اُس وقت ہی ممکن ہے جب دنیا میں تمام غیر ملکی قبضوں اور حقِ خودارادیت کی نفی جیسے حالات کا ازالہ کیا جائے۔

‎اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اپنے قومی بیان میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے فلسطین اور جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان خطوں کے عوام آج بھی ظلم و جبر اور بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں۔

‎انہوں نے زور دیا کہ کونسل کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تمام مقبوضہ و مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنے روک تھام کے مینڈیٹ کو فعال انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔

‎سفیر عاصم افتخار نے عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کئی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کی ساکھ اور فعالیت کے لیے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی وسائل ناگزیر ہیں۔

‎انہوں نے کہا کہ جب تک تکنیکی تعاون اور استعداد سازی میں رکاوٹ بننے والے مالی بحران کا حل نہیں نکالا جاتا، کونسل کی کارکردگی محدود رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مینڈیٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد نے کونسل کی ذمہ داریوں اور دستیاب وسائل کے درمیان خلیج کو وسیع کر دیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ مینڈیٹس کو منظم کیا جائے، تکرار سے بچا جائے اور مختلف نظاموں کے مابین ہم آہنگی کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ توجہ تعداد کے بجائے معیار پر ہونی چاہیے تاکہ ہر مینڈیٹ انسانی حقوق کے فروغ میں حقیقی قدر کا اضافہ کرے۔

‎پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی تمام اقسام پر متوازن توجہ ضروری ہے۔ اکثر وسائل اور توجہ کا مرکز شہری و سیاسی حقوق بن جاتے ہیں جبکہ معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق ، بشمول حق برائے ترقی  کو کم ترجیح دی جاتی ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ یونیورسل پیریاڈک ریویو  کونسل کا ایک مؤثر ترین نظام ہے جو آفاقیت، معروضیت اور تعاون کی روح کو مجسم کرتا ہے۔ پاکستان اس نظام کی آفاقیت اور دیانت داری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

‎پاکستان کے حالیہ انتخاب بطور رکن انسانی حقوق کونسل (2026–2028) کا حوالہ دیتے ہوئے، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک متوازن، اصولی اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

‎انہوں نے کہا کہ ہم اتفاقِ رائے کی فضا کو فروغ دیتے رہیں گے، عالمی جنوب کی آواز کو بلند کریں گے اور تمام انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ بطور او آئی سی گروپ کے انسانی حقوق اور انسانی مسائل کے کوآرڈینیٹر، پاکستان حقِ خودارادیت کی نفی اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان جیسے انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرتا رہے گا۔