اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کے خواہش مند ممالک اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؛سفیر عاصم افتخار احمد

4

اقوامِ متحدہ، 19 نومبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں توسیع کے لیے مستقل نشستوں کی خواہش رکھنے والے ممالک — بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان (جنہیں مجموعی طور پر جی-4 کہا جاتا ہے) — اصلاحاتی عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، کیونکہ وہ وسیع تر اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے مفادات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے منگل کے روز کہا کہ اصلاحات پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ اصلاحاتی عمل کی کوئی خامی نہیں، بلکہ چند ایسے رکن ممالک کا رویہ ہے جو وسیع تر رکنیت کے جائز مفادات اور نقطۂ نظر کو اپنانے پر تیار نہیں۔

سلامتی کونسل کی تشکیلِ نو پر ہونے والی بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ جیسا کہ یہ ممالک ‘سب کے لیے اصلاحات’ کے بجائے ‘چند کے لیے مراعات’ چاہتے ہیں، یہی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع مذاکرات فروری 2009 میں جنرل اسمبلی میں شروع ہوئے تھے، جن کا تعلق پانچ کلیدی امور سے ہے: رکنیت کی اقسام، ویٹو کا سوال، علاقائی نمائندگی، توسیع شدہ کونسل کا حجم، اور سلامتی کونسل کے طریقۂ کار و جنرل اسمبلی سے اس کا تعلق۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی تشکیلِ نو پر پیش رفت بدستور تعطل کا شکار ہے کیونکہ جی-4 ممالک مستقل نشستوں پر اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم “یونائٹنگ فار کنسینسس” (یو ایف سی) گروپ مزید مستقل ارکان کی شمولیت کی سخت مخالفت کرتا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ اس سے “نئے طبقاتی امتیازات” جنم لیں گے۔ بطور متبادل، یو ایف سی نے ایسے نئے زمرے کی تجویز دی ہے جس میں ارکان مستقل تو نہ ہوں، مگر ان کی مدت زیادہ ہو اور دوبارہ منتخب ہونے کا امکان بھی موجود ہو۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات تمام رکن ممالک کے اہم مفادات سے وابستہ ہیں، لہٰذا اُن پر سب سے وسیع تر حمایت کی بنیاد پر، یعنی اتفاقِ رائے سے فیصلہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایسا قابلِ قبول فارمولا — جس میں غیر مستقل نشستوں میں اضافہ، اور باقاعدہ انتخابات کے ذریعے منصفانہ گردش شامل ہو — ہی کونسل میں تمام ریاستوں کو زیادہ مساوی نمائندگی فراہم کرسکتا ہے۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔

انہوں نے کسی بھی نئی مستقل انفرادی نشست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل حیثیت، مراعات اور خصوصی اسٹیٹس جیسے تصورات آج کی اقوامِ متحدہ میں کوئی جگہ نہیں رکھتے،کونسل کی اصلاحات کو چاہیے کہ تمام رکن ممالک کی آواز کو مضبوط بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں انفرادی مستقل رکنیت سے زیادہ فرسودہ کوئی شے نہیں — ایسی رکنیت جس کے حامل ممالک بلا جھجھک اپنے قومی مفادات کی تکمیل میں مصروف رہتے ہیں، کسی کی نمائندگی نہیں کرتے اور کسی کے سامنے جواب دہ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ مستقل رکنیت اور ویٹو اکثر سلامتی کونسل کی مفلوجی اور غیر شفاف طریقۂ کار کی بنیادی وجوہ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے جاری بین الحکومتی مذاکرات (آئی جی این) ایک ایسا رکن ممالک پر مبنی طریقۂ کار ہے جس نے وقت کے ساتھ ساتھ اتفاقِ رائے کے پہلوؤں کو وسعت دی ہے اور اختلاف کے دائروں کو محدود کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام رکن ممالک کے اجتماعی مفاد کے لیے ضروری ہے کہ ممالک کو مناسب وقت اور موقع دیا جائے تاکہ وہ پانچوں مربوط نکات پر اتفاقِ رائے کے علاقوں کو بڑھا سکیں اور اختلافات کم کرسکیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بعض ممالک کی مستقل نشستوں کی خواہش ہی اتفاقِ رائے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خواہشات ریاستوں کی خودمختار مساوات کے بنیادی اصول سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو ایف سی کی تجویز ایک معروضی، متوازن، لچکدار اور جامع نقطۂ نظر کی حامل ہے، جو تمام رکن ممالک اور خطّوں کے جائز مفادات کو سمیٹتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گروپ کا مؤقف ہے کہ توسیع صرف منتخب شدہ غیر مستقل نشستوں میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بھی ہے۔ تاہم ہر خطے کو طویل المدت نشستیں بھی دی جاسکتی ہیں، جن میں دوبارہ منتخب ہونے کا امکان موجود ہو۔