اقوامِ متحدہ، 25 نومبر ( اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ تمام تر سفارتی پیش رفت کے باوجود، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور نہایت سنگین ہے، 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔سماجی و معاشی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، اور احتساب کی پکاروں کا جواب مکمل استثنیٰ کے ساتھ دیا گیا۔
سلامتی کونسل میں مشرقی وسطیٰ و مسئلہ فلسطین پر ریفننگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے دنیا نے غزہ میں ایک تباہ کن جنگ کو کرب اور حیرت کے ساتھ دیکھا ہے، ایسی جنگ جس نے محصور، محاصرے میں جکڑے، بارہا بمباری کا شکار اور بھوک سے نڈھال فلسطینی عوام پر ناقابلِ بیان مصیبتیں ڈھا دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے جولائی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، ایک آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے ٹھوس، وقت مقررہ اور ناقابلِ واپسی اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا گیا، جو عالمی برادری کی بھرپور خواہش کا مظہر ہے۔جنگ بندی کو برقرار رکھنا، انسانی تباہی کا ازالہ کرنا، اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی راستے کی بنیاد رکھنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد 2803 پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے، تاکہ شرم الشیخ سربراہ اجلاس سے پیدا ہونے والی رفتار برقرار رہے—خصوصاً فلسطینیوں کی قیادت میں اور ان کی ملکیت میں حکمرانی، تعمیرِ نو اور ادارہ جاتی صلاحیت کو آگے بڑھایا جائے۔











