اسلام آباد، 06 نومبر (اے پی پی ): اسلام آباد میں جمعرات کو سنگم گالا کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان معاشی، صنعتی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانا تھا۔ تقریب میں اعلیٰ حکومتی نمائندوں، سفارتکاروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا موضوع جدید ترقی اور باہمی تعاون کے مواقع کو اجاگر کرنا تھا۔
وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آہنی بنیادوں پر قائم ہے اور عوامی سطح پر یہ تعلق مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ باہمی تجارت اور “ون وِن” بزنس ماڈل کو فروغ دیا ہے جس سے ترقی پذیر ممالک کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ چین آج دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور صنعتی طاقت بن چکا ہے، جبکہ پاکستان کو غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے چین کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت اقتصادی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین کی جدید ترقی سے نئے معاشی مواقع پیدا ہو رہے ہیں جن سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک صنعتی شعبے، زراعت، ڈیجیٹل اکانومی اور گرین ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ رانا احسان افضل نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی معیشت کا اہم جزو بن چکی ہیں اور پاکستان ان شعبوں میں اشتراک کو ترجیح دیتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر دونوں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہیں اور آئندہ بھی دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کرتے رہیں گے۔











