لاہور، 26 نومبر (اے پی پی): صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت محکمہ توانائی کا پہلا اہم اجلاس سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں توانائی کے جاری منصوبوں اور محکمے کی مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سیکرٹری توانائی نے محکمے کی کارکردگی اور 2011 سے 2023 تک کے ریکارڈ اقدامات پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں سولر، ہائیڈرو، بائیو گیس، ونڈ اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سولر پینل اسکیم کے تحت اب تک 55 ہزار سولر پینلز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ 14,450 سے زائد سرکاری اداروں کو کامیابی کے ساتھ سولرائز کیا جا چکا ہے۔ مزید یہ کہ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ کی پری کوالیفیکیشن مکمل کر کے رپورٹ کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے، جب کہ پانچ بڑی کمپنیوں کی ویسٹ ٹو انرجی پری کوالیفیکیشن بھی مکمل ہو چکی ہے۔ اجلاس میں چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی جلد تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کے تحت ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ اجلاس میں 1263 میگاواٹ پنجاب تھرمل پاور پلانٹ اور 1320 میگاواٹ ساہیوال کول پاور پلانٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے مطابق پنجاب اس وقت ملک کا 41 فیصد بجلی پیدا کرنے والا صوبہ بن چکا ہے۔ صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “قابلِ اعتماد، سستی اور مقامی توانائی ہماری اولین ترجیح ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار توانائی کے لیے شفافیت، مؤثر منصوبہ بندی اور بہترین ٹیم ورک ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی جیسا اہم منصب ملنے پر وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں اور صوبے میں توانائی کے شعبے میں زبردست بہتری لانے کے لیے پوری ٹیم ایک پیج پر کام کرے گی۔ اجلاس میں سیکرٹری توانائی فرخ نوید، ایڈیشنل سیکرٹری، مختلف اتھارٹیز کے ایم ڈیز اور سی ای اوز نے شرکت کی۔











