وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی کی وزیراعظم شہباز شریف اور ٹاپ 20 سی ای اوز کی مجوزہ ملاقات پر مشاورت

20

اسلام آباد ،11 نومبر)اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے منگل کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی ٹاپ 20 کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEOs) کے درمیان مجوزہ ملاقات کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزراء نے ملاقات کے انتظامات اور سی ای اوز کو دعوت دینے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی سطح پر ملک کی معاشی و جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے حکمتِ عملی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان دنیا میں انتہائی اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ٹاپ سی ای اوز سے ملاقات پاکستانی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے پالیسیوں کو جدید عالمی رجحانات سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی یقینی بنائی جا سکے، جبکہ رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سرمایہ کاری کے شعبے میں استحکام سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی۔

معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے سفیروں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ملاقاتیں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔وفاقی وزراء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نجی شعبے کو قومی ترقی میں ایک مضبوط اور کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کے مثبت اور ٹھوس نتائج سامنے آ رہے ہیں، جو ملکی معیشت کے استحکام کی ضمانت ہیں۔