انفارمیشن سروس اکیڈمی اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے اشتراک سے‘‘  بھارتی جارحیت اور پاکستان کا سٹریٹجک ردعمل: مستقبل کے لائحہ عمل پر غور’’ کے عنوان سے سٹریٹجک ڈائیلاگ

11

اسلام آباد۔30دسمبر  (اے پی پی):انفارمیشن سروس اکیڈمی (آئی ایس اے) نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد کے اشتراک سے آئی ایس اے آڈیٹوریم میں ‘‘بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا سٹریٹجک ردعمل: مستقبل کے لائحہ عمل پر غور’’ کے عنوان سے پہلا سٹریٹجک ڈائیلاگ منعقد کیا  اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں باخبر، معروضی اور تحقیقی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔اس مکالمے میں سینئر عسکری حکام، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی ماہرین، میڈیا نمائندوں اور طلبہ نے شرکت کی اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال اور پاکستان کے سٹریٹجک نقطہ نظر پر تبادلہ خیال  کیا۔

تقریب سے افتتاحی خطاب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس اے عمرانہ وزیر نے معزز شرکاء  کا خیرمقدم کیا اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں باخبر، معروضی اور تحقیقی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتے ہوئے علاقائی اور عالمی چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے اجتماعی فکری کاوش ناگزیر ہے۔

سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کلیدی خطاب کیا۔انہوں نے حالیہ علاقائی پیش رفت کی روشنی میں سٹریٹجک اسباق بیان کرتے ہوئے چوکس رہنے، قابل اعتماد دفاعی بازدارندگی اور سٹریٹجک دانش مندی کی اہمیت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے مضبوط سکیورٹی تیاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سٹریٹجک مفروضے غلط ثابت ہوئے ہیں اور وہ نام نہاد ‘‘نیا نارمل ’’ مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔

 انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ آپریشن سندور ترک کرے اور سفارت کاری، حقیقت پسندی اور تحمل کا راستہ اپنائے۔دیگر معزز مقررین میں سابق کور کمانڈر جنرل (ر) خالد ربانی، سابق سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم اور اعزاز احمد اور سائوتھ ایشیئن سٹریٹجک سٹیبیلٹی انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی (ایس اے ایس ایس آئی) کی صدر ڈاکٹر ماریہ سلطان شامل تھیں۔

 مقررین نے علاقائی استحکام، عسکری تیاری، فضائی طاقت کی صلاحیتوں اور سفارتی روابط پر قیمتی آراء پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ متوازن عسکری حکمت عملی کے ساتھ فعال اور موثر سفارت کاری ناگزیر ہے۔بعد ازاں سوال و جواب کا  سیشن منعقد ہواجس میں مختلف جامعات کے طلبہ نے بامعنی اور بروقت سوالات کیے جس سے مکالمہ مزید موثر اور علمی طور پر مضبوط ہوا۔

اختتامی خطاب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل نے گفتگو کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان سٹریٹجک بصیرت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ بند سلسلے کا پہلا مکالمہ تھا اور آئندہ6 ماہ کے دوران دیگر اہم اور بروقت موضوعات پر بھی اسی نوعیت کی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔یہ ڈائیلاگ سینئر سرکاری و عسکری حکام، سفارت کاروں، سول سوسائٹی، تھنک ٹینکس اور میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد کی شرکت کے باعث بھرپور رہا۔ مختلف جامعات کے طلبہ کی فعال شرکت نے سیشن کو مزید موثر، متحرک اور نتیجہ خیز بنا دیا۔