سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑھتی ہوئی عالمی انسانی ضروریات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نئے سرے سے یکجہتی، مضبوط کثیرالجہتی اور امن کے فروغ کی ناگزیر ضرورت پر زور  

40

اقوام متحدہ، 11 دسمبر ( اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “انسانی امداد” پر بحث سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  بڑھتی ہوئی عالمی انسانی ضروریات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے نئے سرے سے یکجہتی، مضبوط کثیرالجہتی اور امن کے فروغ کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کے اصولی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کی روک تھام اور حل کو اولین ترجیح دے، جب تک تنازعات حل نہیں ہوتے، انسانی امداد کی اپیلوں میں اضافہ جاری رہے گا اور عالمی انسانی ردعمل مسلسل دباؤ کا شکار رہے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حل طلب تنازعات انسانی ضروریات میں اضافے کی بنیادی وجہ ہیں۔انہوں نے کہا امن صرف ایک اخلاقی تقاضا نہیں  یہ انسانی بقا کی ضرورت بھی ہے۔پاکستان نے اعادہ کیا کہ انسانی امداد سیاسی مسائل کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی مندوب نے تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار — بشمول سفارتِ کارانہ پیش بندی، ثالثی، اور سیکرٹری جنرل کے اچھے دفاتر کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً اُن دیرینہ تنازعات کے سلسلے میں جو مستقل طور پر انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے “2026 عالمی انسانی جائزہ” کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2026 میں 293 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہو گی، جبکہ دستیاب وسائل سے صرف 135 ملین افراد تک مدد پہنچائی جا سکے گی۔

سفیر نے کہا کہ عالمی انسانی نظام “غیر معمولی دباؤ” کا شکار ہے — اس کی وجوہات میں بگڑتے ہوئے تنازعات، بے گھر ہونے والوں کی ریکارڈ تعداد، بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں میں اضافہ، امدادی کارکنان کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں، اور موسمیاتی جھٹکوں کی شدت شامل ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی انسانی و انسانی حقوق کے قوانین کے مکمل احترام، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ، اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھوک کو ہتھیار بنانے، محاصروں اور طبی سہولیات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کے خلاف “زیرو ٹالرنس” اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس تاریخی موڑ کو حقیقی تبدیلی کے لیے استعمال کریں۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ہم ایسا مستقبل قبول نہیں کر سکتے جس میں انسانی اپیلیں دگنی ہو جائیں، تنازعات برقرار رہیں اور موسمیاتی بحران معاشروں کو بے بس کر دیں۔