قاہرہ، 2 دسمبر)اے پی پی ): قاہرہ میں ڈی-8 وزرائے تجارت اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور مصر کے وزیر سرمایہ کاری و خارجہ تجارت حسن الخاطب کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی و اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر تجارت نے پاکستان اور مصر کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری 2024 میں قاہرہ میں پی اے ٹی ڈی سی اور سنگل کنٹری نمائش میں پاکستان کی 113 کمپنیوں نے شرکت کی، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ کی اہم کڑی قرار دیا گیا۔
جام کمال خان نے زور دیا کہ پاک–مصر تعلقات کو مضبوط، جامع اور وسیع البنیاد اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 208.32 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو باہمی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں فریقین نے پاکستان–مصر جوائنٹ بزنس کونسل کو دوبارہ فعال بنانے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا تاکہ نجی شعبے کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس موقع پر فوڈ افریقہ، فارماکونیکس، آٹو ٹیک، افریقہ ہیلتھ ایکس کون، فوڈاگ پاکستان اور ٹیکسپو پاکستان جیسے بین الاقوامی تجارتی میلوں میں قریبی تعاون کو سراہا گیا۔
مصری وزیر تجارت نے تاریخی برادرانہ روابط کے تناظر میں دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے حالیہ روابط تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں۔ انہوں نے مصری وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے پاک–مصر تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں وزراء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور عرب جمہوریہ مصر کے برادرانہ تعلقات کو ٹھوس معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔











