اسلام آباد،16دسمبر(اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی جیم اسٹونز پالیسی کا جائزہ لے کر اسے حتمی شکل دی گئی۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان کے جیم اسٹونز سیکٹر کی وسیع مگر غیر استعمال شدہ صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔
اجلاس کے دوران امپورٹ ایکسپورٹ، بینکنگ و فنانس، اور ریٹرن و ریفنڈ پالیسی سے متعلق خصوصی ورکنگ گروپس نے اپنی سفارشات پالیسی فریم ورک میں شامل کرنے کے لیے پیش کیں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ماہرین سے وسیع مشاورت کے بعد پالیسی اور معیار کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق یہ پالیسی ترقی کی رفتار تیز کرنے، ویلیو ایڈیشن کے فروغ اور جیم اسٹونز انڈسٹری کو ایک مسابقتی برآمدات پر مبنی شعبہ بنانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس بات پر وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے کہ پاکستان عالمی جیمز اینڈ جیولری مارکیٹ میں قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔
موجودہ چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ جیم اسٹونز سیکٹر اس وقت زیادہ ضیاع، محدود ویلیو ایڈیشن اور کم ہوتی برآمدات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ غیر سائنسی نکاسی اور پروسیسنگ طریقوں کے باعث مختلف مراحل پر 50 فیصد تک ضیاع ہوتا ہے۔ بے پناہ صلاحیت کے باوجود حالیہ برسوں میں جیم اسٹونز کی برآمدات صرف 5 سے 7 ملین امریکی ڈالر تک محدود رہی ہیں۔
ہارون اختر خان نے واضح کیا کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد جیم اسٹونز کی مکمل ویلیو چین کو دستاویزی اور باضابطہ بنانا پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے ہدفی فنانسنگ، سہل سہولت کاری اور اسمارٹ مراعات فراہم کی جائیں گی۔
قومی جیم اسٹونز پالیسی کے تحت ایک نیا اسٹیٹوٹری اتھارٹی قائم کیا جائے گا جو پالیسی کا نگران ہوگا، کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرے گا اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا۔ اس کے علاوہ نیشنل وارنٹی آفس کے قیام اور جیم اسٹونز ایکسپورٹرز کی سہولت کے لیے ہوائی اڈوں پر کمرشل ڈیسک قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
نیشنل وارنٹی آفس کے ذریعے جیم اسٹونز کی برآمدات کے لیے ایک مربوط، شفاف اور مؤثر نظام فراہم کیا جائے گا، جس میں پیکیجنگ اور سرٹیفکیشن کی سہولیات شامل ہوں گی۔ مزید برآں، موثر کورئیر سروسز، نیا پے جیسے بین الاقوامی ڈیجیٹل بینکنگ حل، اور آسان آن لائن رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
جیم اسٹونز انڈسٹری کو اربوں ڈالر کی صلاحیت رکھنے والا شعبہ قرار دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ مناسب دستاویزات سازی اور ریگولیٹری اصلاحات پاکستان کی معیشت کو نمایاں طور پر مضبوط کریں گی۔ انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام پالیسی اقدامات برآمدات میں اضافے، شعبے کی باضابطہ تشکیل اور ایکسپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔











