وزیر اعظم کا مالیاتی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کو مزید منظم انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ، نیب کو اپنا کام شفافیت کے ساتھ جاری رکھنے کی مکمل ادارہ جاتی آزادی حاصل ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف

8

اسلام آباد۔9دسمبر  (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مالیاتی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کو مزید منظم انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کو اپنا کام شفافیت کے ساتھ جاری رکھنے کی مکمل ادارہ جاتی آزادی حاصل ہے، وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں عالمی انسداد بدعنوانی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ،  نیب کے افسران، ڈی جی ایف آئی اے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، سرکاری افسران اور دیگر نے شرکت کی۔

 منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے مالی بد عنوانی کے خاتمے کے لیے کاوشوں اور غیر معمولی کامیاب کارروائیوں پر لیفٹیننٹ جنرل(ر) نذیر احمد اور تمام ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو مکمل ادارہ جاتی آزادی حاصل ہے کہ شفافیت سے اپنا کام جاری رکھ سکے کیونکہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر اس  عزم کی تجدید کرتا ہے کے مالیاتی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کو مزید منظم انداز میں جاری رکھے گا۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ 2025ء میں یہ دن ‘‘ نوجوانوں کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے خلاف: ایماندار باعزت مستقبل کی بنیاد’’کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے، یہ عنوان پاکستان کی نوجوان آبادی کو اس کار خیر میں شامل کرنے کی اہمیت کو بھرپور اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان ہمارا بیش قیمت اثاثہ اور پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی بدعنوانی سے پاک معاشرہ ہی ملکی ترقی، خوشحالی اور معیشت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کو یقینی بناتا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ  تمام حکومتی منصوبوں  اور اقدامات میں مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ  بدعنوانی کے مضر معاشرتی اثرات کی حوصلہ شکنی اور بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے اپنے عزم کی تجدید کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور  طریقے سے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں تاکہ ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 وزیراعظم نے نیب کی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منظم مالی جرائم کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہونے والے شہریوں کی بروقت داد رسی سے نیب پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔

 تقریب سے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بھی خطاب کیا اور نیب کی حالیہ چند سالوں اور بالخصوص اس سال کی کارکردگی پر وزیراعظم اور حاضرین کو بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے  ساتھ باہمی اور موثر تعاون سے نیب نے 2025ء میں 5.1 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر معمولی وصولیاں ممکن بنائیں۔  چیئرمین نیب نے کہا کہ 2022ء کے بعد سے قومی احتساب بیورو میں اصلاحاتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے ہیں جس سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔

 چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی تقریب وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہونا اس بات کی عکاسی کرتا  ہے کہ احتساب اور جوابدہی حکومت کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

تقریب کے اختتام پر نیب کی غیر معمولی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرنے والے نیب افسران کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے اعلی کارکردگی دکھانے والے نیب افسران کو انعام کے طور پر  تین اعزازیوں یا عمرے کی ادائیگی کاموقع فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

 تقریب میں یو این او ڈی سی کے نمائندے نے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آف یوتھ افیئرز فلپ پولیر  کا پیغام  پڑھ کر سنایا۔