اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے جی ای ورنووا ہائیڈرو پاور کے سی ای او فریڈرک ربیراس نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کی صاف توانائی پر منتقلی، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور پن بجلی و توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
پیر کو وزارت پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ توانائی کے شعبہ کو بتدریج مارکیٹ بیسڈ ماڈل کی طرف لےکر جا رہے رہے ہیں اور مستقبل میں بجلی کی خریدار نہیں ہوگی۔ انہوں نے ٹرانسمیشن سسٹم میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے عالمی سرمایہ کاروں کو بی ٹو بی ماڈل کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جی ای ورنووا جیسی کمپنیاں سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت میں مضبوط شراکت دار ثابت ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کم لاگت توانائی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے اور حال ہی میں ملک کی تقریباً 56 فیصد بجلی صاف ذرائع سے حاصل کی گئی۔وفاقی وزیر نے ونڈ پاور کے ٹیک آف مسائل کے باعث بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی بڑھتی ہوئی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر ربیراس نے گرڈ کے استحکام کے لیے پمپڈ سٹوریج ہائیڈرو پاور کو ایک موثر آپشن کے طور پر پیش کیاجسے وفاقی وزیر نے مثبت طور پر سراہا اور کہا کہ حکومت ہر کم لاگت متبادل پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
ربیراس نے ہائیڈرو پاور ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔وفاقی وزیر نے اس دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے منصوبوں کی فہرست فراہم کر سکتی ہے جہاں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع موجود ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی نے ڈسکوز کی نجکاری کے بارے میں بھی بتایا اور خصوصاً اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب جیسے منصوبوں میں جہاں جی ای ورنووا کی تکنیکی مہارت معاون ثابت ہوسکتی ہے کے حوالے سے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے ساتھ مضبوط رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جی ای ورنووا کی قیادت نےپاکستان کی پالیسی سمت کو سراہا اور ہائیڈرو پاور و توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے لیے پائیدار، قابل اعتماد اور کم لاگت توانائی کے اہداف کے حصول کے لیے باہمی رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔











