” ڈیجیٹل ایج میں سیکھنے پر پہلی بین الاقوامی کثیرالثباتی کانفرنس: مستقبل کے لیے جنریشن Z کی تیاری “

17

ملتان، 15دسمبر (اے پی پی ): ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبۂ ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام’’ڈیجیٹل ایج میں سیکھنے پر پہلی بین الاقوامی کثیرالثباتی کانفرنس: مستقبل کے لیے جنریشن Z کی تیاری ‘‘   کامیابی کے ساتھ دو روز تک منعقد ہوئی۔ اس اہم بین الاقوامی علمی کانفرنس کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل تبدیلی کے تناظر میں تعلیم کے شعبے میں ابھرتے ہوئے رجحانات، درپیش چیلنجز اور نئے مواقع کا جامع جائزہ لینا تھا۔ترجمان کے مطابق اس کانفرنس کی سرپرستِ اعلیٰ وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان، پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تھیں، جبکہ کانفرنس کی چیف آرگنائزر اور فوکل پرسن، رجسٹرار و چیئرپرسن شعبۂ ایجوکیشن، ڈاکٹر ثمینہ اختر تھیں۔ ڈاکٹر فریحہ نے بطور منتظم کانفرنس کے انتظامی اور تنظیمی امور میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کانفرنس کا انعقاد ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبۂ ایجوکیشن، سوشیالوجی، اپلائیڈ سائیکالوجی، پولیٹیکل سائنس و انٹرنیشنل ریلیشنز، ماس کمیونیکیشن، شماریات اور تاریخ و پاکستان اسٹڈیز کے باہمی اشتراک سے کیا گیا، جو جنریشن Z کی تعلیمی ضروریات کے تناظر میں کثیرالثباتی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔کانفرنس کے مختلف سیشنز کی میزبانی سعدیہ طالب اور مریم محمود نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ افتتاحی سیشن کے دوران شعبۂ ایجوکیشن کی لیکچرر مریم محمود نے شعبۂ ایجوکیشن کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرتے ہوئے اس کی تعلیمی اہمیت، تحقیقی رجحانات اور معیاری تعلیم کے فروغ میں کردار پر روشنی ڈالی۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں تعلیم کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور جنریشن Z کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔     انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے سیکھنے کے طریقۂ کار کو یکسر بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں کہ وہ جدید، مؤثر اور ہم عصر تدریسی حکمتِ عملیوں کو اپنائیں۔وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ کثیر الثباتی  تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون ہی مستقبل کی تعلیم کو بامقصد اور مؤثر بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر شعبۂ ایجوکیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی علمی سرگرمیوں کے مثبت نتائج مستقبل کی تعلیمی پالیسیوں اور تدریسی عمل میں نمایاں بہتری کا سبب بنیں گے۔کانفرنس کی چیف آرگنائزر اور فوکل پرسن ڈاکٹر ثمینہ اختر نے اپنے رسمی خطاب میں معزز مہمانوں، مقررین، اساتذہ، محققین اور طالبات کو خوش آمدید کہتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل لرننگ، جدید تدریسی ماڈلز، تعلیمی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اکیسویں صدی کی مہارتوں پر سنجیدہ اور بامقصد علمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جنریشن Z نہ صرف ڈیجیٹل طور پر باخبر ہے بلکہ اسے تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتوں سے لیس کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر درپیش مسابقتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں سامنا کر سکے۔ ڈاکٹر ثمینہ اختر نے تمام شریک شعبہ جات، منتظمین اور رضاکاروں کی محنت کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر فریحہ کی تنظیمی خدمات کو بھی خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا۔کانفرنس کے پہلے روز معروف ملکی و غیر ملکی ماہرینِ تعلیم اور اسکالرز نے کلیدی اور تکنیکی سیشنز میں شرکت کی، جن میں ڈاکٹر رانا دلشاد، ڈاکٹر بشیر حسین، ڈاکٹر اختر علی، ڈاکٹر امیر ہاشمی، ڈاکٹر جام محمد، ڈاکٹر امبرین خضر، ڈاکٹر یاسر علی، ڈاکٹر غلام اسحاق، ڈاکٹر صائمہ افضل، ڈاکٹر ارشاد حسین، ڈاکٹر شہباز نواز، ڈاکٹر عمر فاروق اور ڈاکٹر نبیہ لقمان شامل تھے۔ مقررین نے ڈیجیٹل دور میں سیکھنے کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح تعلیم، ابلاغ، سماجی رویّوں اور جنریشن Z کی ذہنی و فکری نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل لرننگ کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ چیلنجز، جن میں ڈیجیٹل خلیج، اخلاقی مسائل اور مساوی رسائی شامل ہیں، پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کہا کہ اس بروقت اور اہم موضوع پر کثیرالثباتی کانفرنس کے انعقاد کو سراہا اور تمام معزز مقررین کا قیمتی علمی بصیرت اور تجربات شیئر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے منتظمین اور شریک شعبہ جات کی مشترکہ کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فوکل پرسن ڈاکٹر ثمینہ اختر اور منتظم ڈاکٹر فریحہ کی قیادت، محنت اور وژن کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل تعلیم اور ڈیجیٹل لٹریسی جنریشن Z کو باخبر، باصلاحیت اور ذمہ دار عالمی شہری بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔کانفرنس کی اختتامی تقریب کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ڈاکٹر ثمینہ اختر کے ہمراہ معزز مہمان مقررین میں ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔ اس کے علاوہ منتظم ٹیموں اور شریک شعبہ جات کے اراکین کو بھی ان کی محنت، تعاون اور پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں اسناد پیش کی گئیں۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ، کثیرالثباتی تحقیق کے استحکام اور جنریشن Z کو مستقبل کے چیلنجز کا اعتماد اور صلاحیت کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر یہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ایک بامقصد، فکری اور مؤثر علمی سرگرمی ثابت ہوئی، جس نے ویمن یونیورسٹی ملتان کے جدت، اشتراک اور اعلیٰ تعلیمی معیار کے وژن کو مزید تقویت بخشی۔ کانفرنس میں اساتذہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔