اسلام آباد،07 جنوری(اے پی پی): وزیراعظم کی ہدایت پر وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد ملک کی صدارت میں اسلام آباد میں پولن الرجی کے خاتمے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا گیا جس کے تحت سی ڈی اے اور وزارتِ قومی صحت نے مشترکہ طور پر عملی اقدامات کیے۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پولن الرجی کا سبب بننے والے پیپر ملبری درختوں کے خلاف تین مرحلوں پر مشتمل سائنسی آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اسلام آباد سے 29,115 پولن الرجی والے پیپر ملبری درخت ہٹا دیے گئے۔ ایف نائن پارک شکرپڑیاں اور مختلف بڑے سیکٹرز سے یہ درخت مرحلہ وار ختم کیے گئے۔
حکام کے مطابق اس مہم میں مقامی اور غیر الرجینک درختوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا اور صرف پیپر ملبری کو ہدف بنایا گیا۔ ہر اکھاڑے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت اب تک متعلقہ علاقوں میں 40 ہزار سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ نجی شعبے اور او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مزید 18 ہزار درخت لگانے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے جبکہ شکرپڑیاں میں 81 ایکڑ رقبے پر بحالی کا کام جاری ہے جسے اپریل 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں پولن الرجی کے مریضوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران پولن ویکسینیشن کیسز میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2023 کے مقابلے میں 2025 میں الرجی کیسز نصف سے بھی کم رہ گئے جبکہ نومبر اور دسمبر 2025 میں پولن الرجی کے کیسز ریکارڈ حد تک کم رپورٹ ہوئے۔











