بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، احسن اقبال

13

اسلام آباد، 02 جنوری (اے پی پی ): وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بلیو اکانومی پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلیو اکانومی پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم ہزار کلومیٹر طویل ساحل اور وسیع سمندری حدود کے باوجود اس شعبے کی مکمل صلاحیت سے ابھی تک استفادہ نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جی ڈی پی میں بلیو اکانومی کا حصہ اس وقت صرف ایک فیصد ہے، جسے بڑھانے کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ گوادر اور کراچی بندرگاہوں کو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کے لیے ترقی دی جا رہی ہے، جبکہ گوادر کو ایک طویل المدتی معاشی پلیٹ فارم کے طور پر مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیو اکانومی صرف ماہی گیری تک محدود نہیں بلکہ اس میں پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور مارکیٹنگ جیسے پہلوؤں پر توجہ دینا ناگزیر ہے تاکہ قومی معیشت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے اپنے سمندری وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے بلیو اکانومی کو معاشی ترقی کا مضبوط ستون بنایا ہے، جبکہ پاکستان میں خصوصاً بلوچستان کے سمندری علاقے ملکی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے میری ٹائم شعبے کے مختلف منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور پالیسی فریم ورک تیار کر لیا ہے۔

احسن اقبال نے فشریز اور ایکوا کلچر میں ویلیو ایڈیشن کو ملکی معیشت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں بھی بلیو اکانومی کے وسیع امکانات موجود ہیں جن پر عملی کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام میری ٹائم منصوبوں کے لیے مربوط، حل مرکوز اور مستقبل بین حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے، جبکہ ’’اڑان پاکستان‘‘  کے تحت بلیو اکانومی کو قومی ترقی کا ایک اسٹریٹجک ستون بنایا گیا ہے۔