حکومت کی استحکامی پالیسیاں: ملکی معیشت میں بہتری کے واضح آثار، مختلف معاشی شعبوں میں استحکام پیدا ہوا ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

9

اسلام آباد،12جنوری(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی استحکامی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں بہتری کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں اور مختلف معاشی شعبوں میں استحکام پیدا ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ قدرتی آفات کے باوجود معیشت نے مثبت سمت میں پیش رفت کی ہے جبکہ صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ عرصے کے مقابلے میں مجموعی معاشی کارکردگی میں واضح فرق محسوس کیا جا رہا ہے اور زراعت و خدمات کے شعبے بھی استحکام کی طرف گامزن ہیں۔

احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت وقتی یا مصنوعی طریقوں سے معاشی نمو بڑھانے کے حق میں نہیں بلکہ پائیدار اور متوازن ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محتاط معاشی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کے باعث مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے اور ضروری اشیائے خوردونوش کی دستیابی بہتر ہوئی ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق طویل عرصے کے بعد بڑے صنعتی شعبے میں بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جو معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں اضافہ ہوا ہے جو مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود برآمدات میں بہتری آئی ہے اور حکومت برآمدی شعبے کو معیشت کی ترقی کا اہم ستون سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ‘‘اُڑان پاکستان ’’ کے تحت برآمدات میں اضافے کے لیے ہنگامی اور مؤثر اقدامات کی سفارشات دی گئی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے برآمدی چیمپئنز درکار ہیں جو عالمی منڈی میں ملک کا نام روشن کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد اور ملکی معیشت میں استحکام کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی زر مبادلہ ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد میں تسلسل کے ساتھ پیش رفت جاری ہے اور ترقیاتی سرگرمیوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ محتاط منصوبہ بندی اور اخراجات کے مؤثر انتظام کے باعث بچت بھی ممکن ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق حالیہ منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں سے مختلف شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت خوردنی تیل سمیت اہم زرعی اجناس میں خود کفالت کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور مقامی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے چائے اور دیگر زرعی اجناس کے حوالے سے جامع حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، جس سے مستقبل میں زرمبادلہ کی بچت اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اسے قومی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانا ہماری قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے، تاہم اس مشن میں خدمات انجام دینے والے افراد کو درپیش خطرات باعثِ تشویش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں امریکہ کے ساتھ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم ملاقاتیں کی گئیں، جبکہ چین کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی کمی کو دور کرنے کے لیے حکومت سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں پر پیش رفت تسلسل سے جاری ہے اور مختلف سطحوں پر تعاون مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ اور تکنیکی شعبوں میں ترقی مستقبل کی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ آئندہ عرصے میں توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دی ہے، جبکہ وزیراعظم بھی مسلسل بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔