اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے نظریات پھیلانے والوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان سے اور نہ ہی انسانیت سے، قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد امن کے پیغام کو پھیلانا ہے، اسلام امن کا مذہب ہے، یہ پیغام گھر گھر پہنچایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی سمیت دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کا بنیادی مقصد ملک میں امن کے پیغام کو عام کرنا اور ریاست پاکستان کے ہر شہری کو احساس دلانا ہے کہ اسلام سراسر امن کا مذہب ہے اور انسانیت کے لئے امن کا پیغام لے کر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جو نظریات آئے روز پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، ان کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان سے اور نہ ہی انسانیت سے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اور قوم ایسے گمراہ کن نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کا پشاور کا دورہ نہایت کارآمد ثابت ہوگا جہاں تمام مکاتب فکر کے علماء سے مشاورت کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ پیغام گھر گھر پہنچے کہ دین اسلام امن کا مذہب ہے اور ہم امن کے خواہاں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد کچہری کے واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے ہینڈلرز کو گرفتار کیا گیا، ان سے برآمد ہونے والا مواد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ عناصر جن نظریات پر کاربند ہیں، ان کا واحد مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے اور یہ ایک واضح فارن فنڈنگ ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج بھارت سے فنڈنگ وصول کر کے پاکستان میں آ کر دھماکے کرتے ہیں، یہ کون سا اسلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے بھارت کے ساتھ بار بار کے روابط اور مذاکرات بھی سوالیہ نشان ہیں۔ یہ کون سے مذاکرات ہیں، کون سی تجارت یا باہمی تعاون کے ایسے شعبے ہیں جن پر مشاورت کی جا رہی ہے؟ یہ دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی کچہریوں پر حملے کرتے ہیں اور کبھی بچوں کی بسوں کو نشانہ بناتے ہیں تاہم یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے عزم کے تحت پوری قوم یکجا ہے اور ہم نے ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے، دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو، ریاست پاکستان اس کا بھرپور اور فیصلہ کن مقابلہ کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی بااختیار کمیٹی ہے اور ان شاء اللہ یہ اپنا موثر اور فعال کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے نہ صرف دہشت گردی کے بیانیہ کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ فارن فنڈنگ ایجنڈے اور افغانستان کی سرزمین کو بھی استعمال کیا جاتا ہے جنہیں نہ صرف ہم موثر انداز میں کائونٹر کریں گے بلکہ ہر پاکستانی شہری کو تحفظ کا احساس بھی دلائیں گے، پیغام پاکستان اور پیغام امن ہی درست راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے، اس کمیٹی کا وسیع ایجنڈا ہے، اس میں اقلیتوں کو بھرپور نمائندگی دی گئی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ان کا تعلق ایسے حلقے سے ہے جہاں تقریباً 70 ہزار اقلیتی ووٹرز موجود ہیں جنہوں نے اعتماد کر کے انہیں اسمبلی تک پہنچایا، اس میں بشپ آرچ مارشل صاحب کا بھی بڑا کردار ہے، میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ امن کے پیغام کو پورے ملک میں عام کیا جائے گا۔ ریاست پاکستان ہر شہری کو تحفظ کا احساس دلائے گی اور کسی بھی شرپسند یا دہشت گرد کو اپنا گمراہ کن بیانیہ پروان چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں معاشرے کے ہر طبقے کو شمولیت کی دعوت دی جائے گی اور یہ کمیٹی اسلام کی اصل روح کے مطابق پورے پاکستان میں امن، رواداری اور ہم آہنگی کا پیغام لے کر جائے گی۔











