اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)کی جانب سے پاکستان میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے گاڑیوں کی حوالگی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں بیماریوں کی روک تھام اور بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صرف ہسپتال اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا وژن نہیں بلکہ اصل مشن عوام کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم متعدد چیلنجز سے دوچار ہے اور اگر کسی بھی وقت بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہو جائیں تو صحت کا پورا ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے جس کی واضح مثال کووڈ۔19 وبا ہے جسے ترقی یافتہ ممالک بھی مؤثر طور پر سنبھال نہ سکے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، تاہم بچے کی پیدائش سے بڑے ہونے تک موجودہ ایکو سسٹم مثالی نہیں، پانی، صفائی اور آب و ہوا سے جڑے مسائل بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ ایک ڈاکٹر روزانہ درجنوں مریض دیکھنے پر مجبور ہے جبکہ وینٹی لیٹرز کی کمی جیسے مسائل قومی سکیورٹی چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو ’’سِک کیئر‘‘ کے بجائے مؤثر ’’ہیلتھ کیئر‘‘ سسٹم کی ضرورت ہے جس میں گلی، محلے اور دیہی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 13 مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے مفت فراہم کر رہی ہے تاہم عوام کو ویکسینیشن پر اعتماد کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے فراہم کی گئی گاڑیاں دور دراز علاقوں میں حفاظتی ٹیکے اور بنیادی صحت کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو پروگرام پولیو وائرس کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے آبادی پر قابو پانے، نکاسی آب اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور ہنگامی بنیادوں پر احتیاطی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت کو مضبوط بنا کر بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں عالمی ادارۂ صحت کا حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے لیے گاڑیوں کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔











