لاہور، 08 جنوری (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے ساتھ کسی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا اور پنجاب میں کسی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آئمہ کرام معاشرے کے ستون اور دین کے حقیقی علمبردار ہیں اور ان کے لیے اعزازیہ کی خدمت کا موقع ملنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ وہ وزیراعلیٰ اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر غم اور خوشی کے موقع پر علماء کرام سے رہنمائی لی جاتی ہے، مگر افسوس ہے کہ آج بھی کئی مساجد کے آئمہ کرام کو ماہانہ چندہ جمع کر کے صرف پانچ سے دس ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ دین کے روشن چہرے کو صدا لگا کر خرچ اکٹھا کرنا باعثِ افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آئمہ کرام کو 15 ہزار روپے اعزازیہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تو نواز شریف نے ہدایت کی کہ کم از کم 25 ہزار روپے دیے جائیں، تاکہ انہیں کچھ معاشی آسودگی میسر آ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اعزازیہ پروگرام کے آغاز پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا، تاہم آئمہ کرام کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ پنجاب میں تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں جن میں سے 70 ہزار مساجد نے رجسٹریشن کروا لی ہے جبکہ عمل بدستور جاری ہے۔ اس ماہ آئمہ کرام کو پے آرڈر کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی جبکہ آئندہ ماہ سے مستقل طور پر اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا آغاز ہوگا، جس کا مقصد شفافیت اور سہولت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر آئمہ کرام کو بیماری، بچوں کی فیس یا کسی اور مسئلے کا سامنا ہو تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے آئمہ کرام پر زور دیا کہ وہ حکومت کی امن و اصلاح کی آواز کو عوام تک پہنچائیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا اور اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ اقلیتیں بے خوف ہو کر اپنی زندگی گزار سکیں۔ مذہبی منافرت اور تقسیم کو روکنا علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بعض عناصر مذہب کے نام پر فتنہ پھیلاتے رہے، جنہوں نے بے رحمی سے معاشرے کو نقصان پہنچایا، پولیس اور رینجرز کے جوانوں کو شہید کیا گیا، ستھرا پنجاب کی گاڑیاں جلائی گئیں، املاک تباہ ہوئیں اور لوگوں کا روزگار بند ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور لوگوں کی زندگی اجیرن بنانا فتنہ ہے اور دین کے نام پر ایسا کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ، ظلم اور زیادتی کسی بھی شکل میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ ظالم کو کٹہرے میں لا کر مظلوم کو انصاف دلانا ریاست کا فرض ہے اور ریاست اپنے شہداء کے خون کا حساب لے گی۔ پنجاب سے ڈالہ کلچر، دن دیہاڑے قتل، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی کا خاتمہ کیا گیا ہے اور صوبے کی سرزمین فتنہ، مافیا اور ظالموں کے لیے تنگ کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ملک و قوم کی خدمت اور حفاظت صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام سب پر فرض ہے۔ ٹریفک قوانین میں سختی عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، ہیلمٹ انسانی جان بچانے کا ذریعہ ہے تاکہ کسی کا باپ، بیٹا یا بھائی جدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، مگر امام مسجد کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے، اس لیے ہمیں مل کر ایک ایسا قابلِ تقلید معاشرہ بنانا ہے جس پر سب کو فخر ہو۔ آخر میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ امام مسجد کے لیے اعزازیہ کارڈ محض ایک آغاز ہے، حکومت چاہتی ہے کہ آئمہ کرام کی خدمت میں مزید اضافہ کیا جائے اور معاشرتی اصلاح میں ان کے کردار کو مضبوط بنایا جائے۔











