وزیراعظم نے آزاد کشمیر سے متعلق تمام معاملات پر مثبت رد عمل دیا ہے، وفاقی وزیر امیر مقام کا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

11

اسلام آباد،5 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان  انجینئر امیر مقام اور وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وفاقی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے آزاد کشمیر سے متعلق تمام معاملات پر مثبت رد عمل دیا ہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے نقات سب کے سامنے ہیں۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ہم نے معاہدے پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا وزیراعظم نے اعلیٰ اختیارات کی کمیٹی قائم کی تھی، ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئی سیشنز کیے ان کے مطالبات پر کام کیا گیا اور متعدد مطالبات منظور کیے، ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کی عدم شرکت کے باوجود بھی اجلاس منعقد کیے، کمیٹی نے آج شیڈول اجلاس پر اتفاق کیا تھا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران نے شرکت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود بھی ان تمام چیزوں کی نگرانی کر رہے ہیں حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتی ہے اور آج کے اجلاس کا مقصد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔احتجاج کے دوران گرفتار افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی پورا کر لیا ہے ،کابینہ کا حجم 20 سے زیادہ نہ ہونے کا مطالبہ بھی پورا ہو گیا ہے، ڈیپارٹمنٹ بھی محدود کر لیے گئے ہیں اور سیکرٹریز 20 ہوں گے ،جو لوگ معطل ہوئے تھے وہ سب بحال ہو گئے ہیں، ترقیاتی منصوبوں اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ان کے مطالبے پر بھی کام ہو رہا ہے معاوضے اور آزاد جموں و کشمیر بینک پر اسٹیٹ بینک نے کام شروع کر دیا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اتفاق کیا گیا تھا کہ ماہانہ بنیاد پر ڈیمانڈز پر مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کے بغیر اجلاس کا بائیکاٹ کرنا افسوسناک ہے، وفاق آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، دھیر کورٹ میں پرتشدد احتجاج میں جانی نقصان کے باوجود حکومت نے مذاکرات کیے اور تمام مقدمات واپس لیے گئے۔