اسلام آباد، 20 جنوری(اے پی پی ): وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسینانٹو سوکتجو سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور شعبہ جاتی تعاون کے فروغ کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے پاکستان کی بدلتی ہوئی تجارتی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، جس میں چاول کی برآمدات کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کے چاول کا ایک بڑا برآمدکنندہ ہے، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ اور بڑے ممالک کی پالیسی مداخلت کے باعث مسابقتی چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیار برقرار رکھتے ہوئے قیمتوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے مالی اور تجارتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
جام کمال خان نے انڈونیشیا سمیت منتخب شراکت دار ممالک کے ساتھ اوپن مارکیٹ اور حکومت سے حکومت فریم ورک کے تحت تعاون کی تجویز پیش کی اور پاکستان–انڈونیشیا چاول تعاون فریم ورک کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2015 میں طے پانے والا چاول کا مفاہمتی یادداشت ، جو سالانہ دس لاکھ میٹرک ٹن تک چاول کی حکومت سے حکومت بنیاد پر فراہمی سے متعلق تھا، 2019 میں ختم ہوچکا تھا۔ پاکستان نے اس کا نظرثانی شدہ مسودہ انڈونیشی فریق کو ارسال کر دیا ہے اور جلد حتمی شکل دیے جانے کی امید ظاہر کی۔
وفاقی وزیر نے زرعی برآمدات، بالخصوص کنو سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی جانب سے درآمدی کوٹہ کے اجرا میں تاخیر سے برآمدکنندگان اور کاشتکاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ کنو کے لیے غذائی و زرعی جانچ کی تعداد آٹھ سے بڑھا کر چوبیس کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس سے لاگت اور وقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ تحفظِ نباتات انڈونیشی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
زراعت کے علاوہ ملاقات میں توانائی، بایو ڈیزل، معدنیات، بنیادی ڈھانچے اور خصوصی اقتصادی زونز میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
وفاقی وزیر نے انڈونیشی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں پام آئل کے ذخیرہ، پراسیسنگ اور علاقائی منڈیوں تک رسد کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور بندرگاہی و لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
انڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ چاول ، تعاون، زرعی منڈی تک رسائی اور تجارتی سہولت کاری سے متعلق امور جکارتہ تک پہنچائے جائیں گے۔
دونوں فریقین نے مشترکہ تجارتی و ترقیاتی کمیٹی کے جلد انعقاد، تجارتی فورمز اور ورچوئل مشاورت کے ذریعے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا اور دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔











