وفاقی وزیر خزانہ  محمد اورنگزیب کا ‘‘ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ ’’ کے افتتاحی سیشن سے خطاب

12

اسلام آباد۔14جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت جامع اقتصادی اصلاحات  پر عمل پیرا ہے،معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی۔یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں’’ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ ‘‘کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ نے پائیدار اقتصادی نمو اور ترقی کےلئے حکومت کے اقدامات کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ترقی کا انجن ہے، معیشت کی بہتری کےلئے کی جانے والی کوششوں میں نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زیادہ ٹیکس اور توانائی کی بلند قیمتیں کاروبار کےلئے سنجیدہ مسائل ہیں ، حکومت ٹیرف کو معقول بنانے کےلئے اقدامات کررہی ہے ، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے وزارت خزانہ منتقل کیا گیا جس کا مقصد پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو علیحدہ کرنا ہے، ایف بی آر کی توجہ اب ٹیکس وصولی پر ہے، ایف بی آرمیں جامع اصلاحات جاری ہیں جن کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں ۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی،بینکاری سے باہر رہنے والے افراد اور اداروں کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئند ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا حجم 38ارب ڈالر تھا ، رواں سال 41 ارب ڈالر  ترسیلات زر کی توقع ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کو کم کرنا ضروری ہے، حکومت اس مقصد کےلئے اقدامات کررہی ہے،78 برسوں میں  پہلی مرتبہ ٹیرف اصلاحات کے ذریعے  خام مال پرڈیوٹیز کم کی جارہی ہے، ٹیرف میں کمی سے برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ  معاشی اصلاحات پاکستان کےلئے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ  قرضوں کے بہتر انتظام و انصرام کےلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجہ میں قرضوں کی ادائیگی میں بہتری آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے نجکاری  اورسرکاری اداروں کی  بہتری اور تنظیم نو کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی جو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نجی شعبے کے اعتماد کا اظہار ہے،24 سرکاری ادارے  نجکاری کمیشن کے حوالے  کئے گئے ہیں ، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز، پاک پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا ہے،اداروں کی بندش کا مقصد سبسڈی میں موجود بدعنوانی کا خاتمہ ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنا اورمعیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس سے مالیات کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی، آئندہ ہفتوں میں چین کی مارکیٹ میں پاکستان اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے عمل پر ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ کےلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے 3.5ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے، ریکوڈک منصوبہ پاکستان کےلئے فائدہ مند ہے، اس منصوبے سے 2028میں برآمدات شروع ہونگی اور پہلے سال 2.8ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیلی نار کی ٹرانزیکشنز میں 400ملین ڈالر بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن نے دی ہیں ، بین الاقوامی سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں اور اوسی سی آئی کے سروے سے اس کی عکاسی بھی ہورہی ہے، اس سروے میں 73فیصد سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پرامیدی کا اظہارکیا تھا۔