اسلام آباد، 13 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سیکیورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں ملک میں آبی وسائل کے بہتر انتظام، مستقبل کی ضروریات اور پائیدار واٹر سیکیورٹی کے فروغ سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے وزارتِ آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی ہدایت کی، جو قلیل مدت میں جامع اور قابلِ عمل سفارشات تیار کر کے پلاننگ کمیشن کو پیش کرے گا۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں خطے کے گلیشیئرز اور آبی ذخائر سے متعلق تازہ رجحانات پر آگاہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے پانی کی پالیسیوں کو مؤثر عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے فوری طور پر ٹیکنیکل ورکشاپ کے انعقاد کی ہدایت بھی کی۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں آبی وسائل کے تحفظ اور بہتر مینجمنٹ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے تحفظ سے فوڈ سیکیورٹی، معاشی استحکام اور قومی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی پر وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مربوط اور مؤثر اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔ انہوں نے واٹر سیکیورٹی کو قومی ترقی کے اہداف سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں آبی وسائل کا بڑا حصہ دریاؤں پر مشتمل ہے اور بڑھتی آبادی کے پیشِ نظر واٹر مینجمنٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں مالیاتی ماڈلز کو بھی مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے تعلیمی اداروں، آبی ماہرین اور متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ منصوبہ سازی سے آبی تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹاسک فورس عملی تجاویز کی تیاری میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔
پروفیسر احسن اقبال نے پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے جاری منصوبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بڑے آبی منصوبے مستقبل میں ملک کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اجلاس کے اختتام پر آبی وسائل کے مؤثر استعمال اور مربوط حکمتِ عملی پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔











