پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے،وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

10

اسلام آباد، 28 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔بدھ کوچین پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات  کی  پچھترویں سالگرہ  کے موقع پر یہ شراکت داری تسلسل، اعتماد اور اسٹریٹجک گہرائی کی روشن مثال بن چکی ہے۔ سی پیک نے توانائی، سڑکوں، گوادر بندرگاہ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک اُڑان پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد 2035 تک 10 کھرب ڈالر کی معیشت کی تشکیل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران اُڑان پاکستان کےفائیوایز کو صدر شی جن پنگ کے ترقی کے فائیو گروتھ کوریڈورز کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس سے منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ معدنی شعبہ اُڑان پاکستان میں برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 60 کھرب ڈالر ہے، تاہم معدنی برآمدات اس وقت محض دو ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی برآمدات کو 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ معدنی تعاون کو نکاسی سے آگے بڑھا کر ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ، اسمیلٹنگ اور ریفائننگ کی جانب لے جانا وقت کی ضرورت ہے۔ سائنڈک، دودر اور تھر جیسے منصوبے اس تعاون کی کامیاب مثالیں ہیں، جبکہ حالیہ سرمایہ کاری معاہدے اس شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ معدنی ترقی کو پائیدار، ماحول دوست اور علاقائی شمولیت پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے وسائل سے مالا مال علاقوں کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات میں حقیقی فوائد حاصل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کو تانبہ، سونا، ریئر ارتھ  منرلز  اور دیگر اہم معدنیات میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے تاکہ معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں بدلا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہم پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے پچھترویں سال کے قریب پہنچ رہے ہیں، ہمارا تعلق تسلسل، اعتماد اور اسٹریٹجک گہرائی کی ایک درخشاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دہائیوں کے دوران یہ شراکت داری محض سفارتی خیرسگالی سے آگے بڑھ کر ایک جامع ترقیاتی شراکت میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے انفراسٹرکچر، توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین ـ پاکستان اقتصادی راہداری اس شراکت داری کا سب سے نمایاں اظہار رہی ہے۔ اس کے آغاز کے بعد سے سی پیک منصوبوں کے ذریعے 8,000 میگاواٹ سے زائد توانائی صلاحیت کا اضافہ ہوا، 1,000 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا، گوادر بندرگاہ کو جدید بنایا گیا اور قومی رابطہ کاری کو مضبوط کیا گیا۔ ان کامیابیوں نے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو بدل دیا ہے اور مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کے تحت تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ مرحلہ محض انفرا سٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ رابطہ کاری کو پیداوار میں، اور پیداوار کو برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی میں بدلنے کا مرحلہ ہے۔سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک اُڑان پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اُڑان پاکستان 2035 تک 10 کھرب ڈالر کی معیشت کی تشکیل کا واضح روڈمیپ فراہم کرتا ہے اور یہ فائیوایز ( Es5) پر مبنی ہے: برآمدات، ایـ پاکستان اور نالج اکانومی، ماحولیات اور ماحولیاتی تبدیلی، توانائی اور انفراسٹرکچر، اور مساوات، بااختیاری اور اخلاقیات شعبے شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ اعلیٰ سطحی دورۂ چین کے دوران اس ہم آہنگی کو ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر لے جایا گیا۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ذریعے اُڑان پاکستان کے پانچ ایز کو صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ ترقی کے پانچ گروتھ کوریڈورز سے باضابطہ طور پر جوڑا گیا۔ یہ مفاہمتی یادداشت بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت چین کے ترقیاتی وژن کے ساتھ پاکستان کے قومی اصلاحاتی اور برآمدی ایجنڈے کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتی ہے، تاکہ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں مکمل ربط قائم ہو۔یہ دورہ محض علامتی نہیں تھا بلکہ انتہائی بامعنی تھا۔ دورے کے دوران منعقد ہونے والی بڑے پیمانے کی بی ٹو بی کانفرنس میں دونوں ممالک کے سینکڑوں کاروباری اداروں نے شرکت کی، جس کے نتیجے میں معدنیات، توانائی، مینوفیکچرنگ، زراعت، آئی ٹی اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں جانب سرکاری وژن سے نجی شعبے کی قیادت میں عملی نفاذ کی طرف بڑھنے کی مضبوط خواہش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کے فریم ورک میں برآمدات پہلا اور سب سے اہم ستون ہیں۔ پاکستان کی معاشی تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ پائیدار برآمدی ترقی کے بغیر معاشی استحکام نازک رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معدنی شعبہ ہماری برآمدی تبدیلی کی حکمتِ عملی میں ایک اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 60 کھرب ڈالر ہے، جن میں 92 معلوم معدنیات شامل ہیں، جن میں سے 52 اس وقت نکالی جا رہی ہیں۔ ملک میں تقریباً  5 ہزار  فعال کانیں موجود ہیں جو سالانہ تقریباً 68.5 ملین میٹرک ٹن پیداوار دیتی ہیں۔ اس کے باوجود معدنی برآمدات محدود ہیں اور سالانہ تقریباً دو ارب ڈالر پیدا کرتی ہیں، جو جی ڈی پی کا محض 2 سے 3 فیصد بنتا ہے۔یہ فرق ہماری صلاحیت اور کارکردگی کے درمیان موجود ساختی مسائل کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی صرف 40 فیصد زمین کی جیولوجیکل میپنگ ہو سکی ہے، جبکہ 90 فیصد سے زائد معدنی برآمدات خام یا نیم پراسیس شدہ صورت میں ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویلیو، روزگار اور ٹیکنالوجی خام مال کے ساتھ ہی باہر چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کے تحت یہ صورتحال بدلنی ہی ہے اور بدلے گی۔ بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط شراکت داریوں کے ذریعے معدنی برآمدات میں اس دہائی کے دوران 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک اضافہ ممکن ہے، جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 5 سے 6 فیصد تک لایا جا سکتا ہے اور 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معدنی معیشت کی تبدیلی اسٹریٹجک شراکت داروں کے بغیر ممکن نہیں، اور اس میں چین کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ چینی ادارے معدنی ویلیو چین کے ہر مرحلے میں جدید مہارت رکھتے ہیں، جن میں جیولوجیکل سروے، جدید نکاسی کے طریقے، معدنی پراسیسنگ، اسمیلٹنگ، ریفائننگ، مشینری کی تیاری، ماحولیاتی نظم و نسق اور منصوبہ جاتی فنانسنگ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط جیولوجیکل پوٹینشل، بڑی داخلی منڈی، بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک استحکام، سی پیک کی رابطہ کاری اور صنعتی و برآمدی پالیسی کی واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ دونوں معیشتوں کے درمیان یہ تکمیلی صلاحیتیں فطری اور طاقتور ہیں۔سائنڈک کاپر گولڈ، دودر لیڈـزنک اور تھر کول جیسے موجودہ منصوبے اس تعاون کی عملی مثالیں ہیں۔ حالیہ پیش رفت، جن میں بین الاقوامی سرمایہ کاری فورمز پر 435 ملین ڈالر سے زائد کے نئے معاہدے شامل ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ رفتار ایک بار پھر بحال ہو رہی ہے۔اب ہمارا مقصد نکاسی سے آگے بڑھ کر ویلیو ایڈیشن کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کرنا ہے۔ پاکستان معدنی پراسیسنگ پلانٹس، اسمیلٹرز، ریفائننگ سہولیات اور معدنی بنیادوں پر صنعتی کلسٹرز قائم کرنا چاہتا ہے جو خصوصی اقتصادی زونز اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز سے منسلک ہوں۔ ہم ایسے مشترکہ منصوبے چاہتے ہیں جو نہ صرف ملکی بلکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں کی خدمت کریں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کے اس سفر میں ہم ذمہ دار اور جامع ترقی کے لیے یکساں طور پر پُرعزم ہیں۔ معدنی ترقی کو قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا چاہیے،نہ کہ عدم مساوات کو بڑھانا۔ وسائل سے مالا مال خطوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کو روزگار، مہارتوں، انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی صورت میں واضح فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ بھی ہماری حکمتِ عملی کا مرکزی جزو ہے۔ مضبوط ماحولیاتی معیارات، پانی کا مؤثر انتظام، فضلہ کا درست بندوبست اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت اب اختیاری نہیں بلکہ طویل المدت پائیداری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان ایسے شراکت داروں کا خیرمقدم کرتا ہے جو ان اقدار کو اپنائیں اور عالمی ای ایس جی معیارات کے پابند ہوں۔حکومتِ پاکستان نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا ہے تاکہ تیز رفتار منظوریوں، پالیسی کے تسلسل اور مؤثر سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ ہماری قومی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ چینـپاکستان معدنی تعاون کا مستقبل ٹیکنالوجی، جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور طویل المدت شراکت داریوں کے ذریعے مشترکہ ویلیو تخلیق میں مضمر ہے۔ پاکستان چینی اداروں کو تانبہ، سونا، اینٹیمونی، ٹنگسٹن، ریئر ارتھ عناصر اور دیگر اہم معدنیات میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو صاف توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ کے مستقبل کی بنیاد ہیں۔جن ممالک نے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے تبدیل کیا، انہوں نے قدرتی وسائل کو مضبوط حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کے ساتھ جوڑا۔ پاکستان اسی آزمودہ راستے پر چلنے کے لیے پُرعزم ہے۔ چین جیسے قابلِ اعتماد شراکت دار کے ساتھ مل کر ہم معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں بدل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس فورم سے جنم لینے والی گفتگو اور شراکت داریاں اس مشترکہ وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔