بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا: محمد احسان الحق لغاری

53

کراچی۔ 23 فروری (اے پی پی):انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے رکن (سندھ) اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومتِ سندھ کے ممبر (واٹر) محمد احسان الحق لغاری نے کہا ہے کہ بھارت کو 1960 کے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، اور ایسا اقدام معاہدے کے اصولوں اور بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

پیر کو یہاں اے پی پی   سے بات چیت  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دو ریاستوں کے درمیان طے پانے والا دوطرفہ معاہدہ ہے جسے کسی بھی فریق کی مرضی کے بغیر نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واضح قانونی حیثیت کے باوجود بھارت نے اپریل 2025 میں معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ معاہدے میں اس نوعیت کا کوئی اختیار موجود نہیں، اس لیے یہ اقدام تکنیکی طور پر بھی غیر مؤثر ہے۔

انہوں نے مئی 2025 کے علاقائی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس عرصے کے دوران یہ ادراک ہو گیا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات قابلِ عمل نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ دریاؤں کے بہاؤ کو عملی طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے 2025 کے سیلابوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے پہلے مقبوضہ کشمیر اور ملحقہ بھارتی علاقوں کو متاثر کیا اور بعد ازاں پاکستان میں بھی شدید سیلاب آئے۔محمد احسان لغاری نے کہا کہ معاہدے کو معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ طے شدہ معاہداتی ذمہ داریوں کے منافی ہے، جبکہ پاکستان سفارتی، تکنیکی اور ماحولیاتی بنیادوں پر یہ ثابت کر چکا ہے کہ بھارتی اقدام بلاجواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اب بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ معاہدہ معطل ہے، مگر اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت سیلاب سے متعلق معلومات کا تبادلہ کمشنر ٹو کمشنر ہونا چاہیے تھا، تاہم بھارت نے یہ معلومات اپنی وزارتِ خارجہ کے ذریعے فراہم کیں جو طے شدہ طریقہ کار سے انحراف ہے۔

رکن ارسا نے کہا کہ بھارت نے چناب دریا — جو مکمل طور پر پاکستان کے حصے میں آتا ہے — کے بہاؤ میں ردوبدل کی کوشش کی، جس سے پنجاب کے بعض علاقوں میں پانی کی دستیابی متاثر ہوئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مستقل اسٹریٹجک نظام کے تحت صورتحال کو سنبھال لیا اور کسی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا، جبکہ حکومتِ پاکستان اس معاملے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب سے نکلنے والے بڑے نالوں کے ذریعے راوی میں گرنے والے آلودہ پانی کے مسئلے کو بھی اٹھانے کا وقت آ گیا ہے، جو لاہور اور ملحقہ علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان امور پر بامعنی بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب بھارت بین الاقوامی سطح پر اپنے اقدامات کو تسلیم کرے۔

دریائی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی بقا کے لیے دریاؤں کا مسلسل بہاؤ ناگزیر ہے اور اسے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی تناظر میں اسٹریٹجک اہمیت دی جانی چاہیے۔انہوں نے انڈس ڈیلٹا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی ماحولیاتی اور ساحلی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ایک صحت مند اور فعال ڈیلٹا کراچی اور ساحلی علاقوں کو سمندر بردی سے محفوظ رکھنے، بیماریوں کی روک تھام، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ارسا اور وزارتِ آبی وسائل صوبوں کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہے ہیں تاکہ طویل المدتی اسٹریٹجک حل وضع کیے جا سکیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر مؤثر سفارتی روابط جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناقابلِ قبول ہے۔