اسلام آباد۔6فروری (اے پی پی):وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تر لائی امام بارگاہ خودکش حملہ میں 31 افراد شہید ، 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، 1 بجکر 42 منٹ پر دھماکہ ہوا، خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کی اگلی صفوں تک پہنچنے سے روکا گیا تو اس نے فائرنگ شروع کر دی ، حملہ آور نے گیٹ پر ہی دھماکہ کر دیا ،خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے،تمام ریسکیو ادارے 10 سے 12 منٹ کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچے، یہ دہشت گرد اللہ کی راہ میں نہیں ڈالرز کی خاطر دھماکے کرتے ہیں، جتنے زیادہ لوگوں کی اموات ہوں گی اتنے زیادہ ڈالر ان لوگوں کو ملتے ہیں۔
جمعہ کی شام یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے اور ان کے سہولت کاروں تک پہنچا جا رہا ہے، انشاء اللہ 72 گھنٹوں کے اندر ہم ان تمام ہینڈلرز اور اس واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں تفصیلی رپورٹ وزیر اعظم کے حکم پر پیش کر دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ سکیورٹی کی ناکامی نہیں ہے، یہ ایک ردعمل ہے کیونکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست ہیں اور ہم پوری دنیا کی حفاظت کر رہے ہیں، اسی لیے ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں، وہ صرف اس دیوار کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور وہ دیوار ‘پاکستان ’ہے۔ اگر یہ دیوار کمزور ہوئی تو یہ آگ ہماری سرحدوں تک نہیں رکے گی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے، ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں، ہم یہ جنگ جیتنے جا رہے ہیں اور ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام سکیورٹی ادارے اپنا اپنا کام کر رہے ہیں، اس کارروائی کے بعد خودکش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے، اگر ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس نے کہاں سے سفر کیا تو باقی معلومات بھی سامنے آئیں گی، لیکن جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی، کئی معلومات عام نہیں کی جا سکتیں تاکہ شرپسند اس کا فائدہ نہ اٹھائیں، لیکن یہ یقین رکھیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے پچھلے حملے کے ہینڈلرز سے لے کر اس میں شامل ایک ایک شخص کو پکڑا گیا ہے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جا رہا ہے، ان کو بھی انشاء اللہ بہت جلدپکڑ لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تب ہی محفوظ ہوگا جب ہم پورے پاکستان کو محفوظ کریں گے، اسلام آباد کی سرحدیں خیبر پختونخوا سے لگتی ہیں اور یہ ایک بہت لمبی سرحد ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا پہلا شہر ہے جو ‘سیف سٹی ’ سے آگے بڑھ کر اب ‘سمارٹ سٹی’ بننے جا رہا ہے۔ اس سال سمارٹ سٹی کے منصوبے کے تحت کیمرے اور دیگر ٹیکنالوجی پر بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، تمام ادارے جدید آلات سے لیس ہیں اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں جو بھی افسوسناک واقعات ہوئے چاہے وہ پچھلا دھماکہ ہو یا ٹارگٹ کلنگ، 100 فیصد ملزمان پکڑے گئے ہیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی گئی، اس نے فائرنگ کی اور جتنا نقصان وہ کرنا چاہتا تھا، وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا، وہ مسجد کی اگلی صفوں تک پہنچنے سے پہلے ہی داخلی راستے پر پھٹ گیا کیونکہ امام بارگاہ کا سکیورٹی نظام مکمل فعال تھا۔ تو یہ کہنا کہ سکیورٹی کمزور ہے درست نہیں۔ ادارے کام کر رہے ہیں اور آپ اطمینان رکھیں کہ اسلام آباد کی انتظامیہ شہریوں کو ایک پرامن شہر دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ جی پندرہ میں سکول اور کالجوں کی دیواریں نہ ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کی دیواریں بنانا وزارت تعلیم کا کام ہے، یہ وزارت داخلہ یا سی ڈی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جہاں تک سکیورٹی کا تعلق ہے ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ ہماری ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے بہت سے حملوں کو وقت سے پہلے روکا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے آئی جی اسلام آباد کی قیاد ت میں ہر کیس کو حل کیا ہے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔میرے ساتھ یہاں وہ افسر کھڑے ہیں جن کے ساتھیوں اور بھائیوں نے جانوں کے نذرانے دیئے ہیں، ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔











