قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم کا کامسٹیک کا دورہ، دو طرفہ سائنسی تعاون بڑھانے پر زور

19

اسلام آباد ،3 فروری(اے پی پی):قازقستان کے وزیر سائنس و اعلیٰ تعلیم،  مرزا سیاست نوربیک نے منگل کو کامسٹیک  سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں او آئی سی رکن ممالک اور پاکستان کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر نوربیک کے ہمراہ قازقستان کی ممتاز جامعات کے سربراہان پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔ وفد کا استقبال وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی،  سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ،  کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔

استقبالیہ خطاب میں پروفیسر اقبال چوہدری نے سائنسی سفارت کاری کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارم اور باہمی شراکت داری موجودہ عالمی سائنسی منظرنامے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان او آئی سی خطے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ایجنڈا 2026 سمیت متعدد اہم سائنسی اقدامات اور مسلم مفکرین کے اعزاز میں بین الاقوامی فورمز کے انعقاد میں پیش پیش رہا ہے۔

انہوں نے اسلامی تنظیم برائے غذائی تحفظ کی میزبانی پر قازقستان کو سراہا اور کہا کہ کامسٹیک اور قازقستان کے درمیان استعداد کار میں اضافے، تحقیقی روابط اور جامعات کے مابین نیٹ ورکنگ کے متعدد مشترکہ منصوبے جاری ہیں۔ پروفیسر چوہدری نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت، ماحولیات، زراعت اور جدت پر مبنی تحقیق کو باہمی دلچسپی کے اہم شعبے قرار دیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے کہا کہ قازقستان کامسٹیک کا ایک فعال اور قابلِ قدر شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کا آغاز 1996 میں پاکستان۔قازقستان گردشی فنڈ کے قیام سے ہوا۔ اس پروگرام کے تحت 100 سے زائد قازق محققین نے پاکستانی جامعات سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ قازقستان نے سائنسی فورمز، جامعاتی روابط، غذائی تحفظ، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، زرعی پائیداری، طبی تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں کامسٹیک کے تحت تعاون کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے حیاتیاتی تحفظ کے موضوع پر اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کا بھی ذکر کیا جو قازقستان کے اقدام کے تناظر میں مشترکہ طور پر منعقد ہوا۔

وفاقی وزیر مگسی نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان و قازقستان جیسے ممالک کو تحقیق و جدت کے لیے مزید وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر نوربیک نے مسلم دنیا میں سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے کامسٹیک کے کردار اور پروفیسر اقبال چوہدری کی قیادت کو سراہا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، مشترکہ تحقیق، جدت طرازی اور محققین کے تبادلے کے شعبوں میں کامسٹیک کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔

اجلاس کے اختتام پر فریقین نے سائنسی و تعلیمی اداروں کے مابین روابط کو مزید مستحکم بنانے، استعداد کار میں اضافے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔