قومی اسمبلی میں بلوچستان دہشت گردی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

10

اسلام آباد، 03 فروری (اے پی پی ): قومی اسمبلی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے خلاف جامع قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جس میں ریاست نے دہشت گردوں اور ان کے بیرونی سرپرستوں کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ اور  فیصلہ کن کارروائی کا دو ٹوک اعلان کیا ہے۔ ایوان نے خواتین کو دہشت گردی کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کو اسلامی و بلوچ اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام سیاسی قوتیں نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی سلامتی اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔قرارداد میں دہشت گردی کی نیٹ ورکنگ میں ملوث بیرونی قوتوں، بالخصوص بھارت کے مذموم کردار کے خلاف سخت  ردعمل کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

منگل کو  وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، بلوچستان کی صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کی بروقت اور موثر کارروائی کو سراہا گیا اور دہشت گردی کے واقعات میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

ایوان نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گرد نیٹ ورک خواتین کو استحصال، جبر، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ اسلامی، پاکستانی اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔یہ ایوان اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ متعدد واقعات میں دستیاب کرائم بیرونی سرپرستی کی جانب اشارہ کرتے ہیں بالخصوص ہندوستان کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں ۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں فنڈنگ سمگلنگ اور پروپگنڈا کے خلاف فوری جارحانہ اور مربوط اور ہنگامی بنیادوں پر موثر قومی رد عمل یقینی بنایا جائے جس میں سیاسی سفارتی عسکری انٹیلی جنس قانونی اور تمام جو محاذ ہیں یہ یکجا ہوں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے، قومی اسمبلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے عوام کے تحفظ کے لیے امن و سلامتی کو یقینی بنائے گی۔

دریں اثناء قومی اسمبلی میں ملک بالخصوص بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بحث کی گئی۔ایوان زیریں کے ارکان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔

عالیہ کامران نے کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔

صوفیہ سعید نے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

عثمان بادینی نے بلوچستان کے وسیع قدرتی وسائل پر روشنی ڈالی اور بلوچ عوام کو ان کے حقوق دینے پر زور دیا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتوں نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

اعجاز الحق نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردوں کو اسلحہ اور مالیات فراہم کر رہا ہے۔

کرن حیدر نے کہا کہ دشمن عناصر کی جانب سے بلوچ نوجوانوں کے استحصال کو روکنے کے لیے بلوچستان کے مسائل کو سمجھداری سے حل کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کرے۔

قرارداد پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے پیش کی۔

اس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو فوری طور پر بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے، تمام جابرانہ اقدامات اٹھانے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین تک بلا روک ٹوک رسائی دینے پر مجبور کرے۔

قرارداد میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کے تنازعہ کے بعد جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی ابتدائی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا۔

بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہادر اور لچکدار لوگوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایوان نے کشمیری عوام کے ساتھ اپنی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعلان کیا اور ان کی جائز امنگوں کی تکمیل تک ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد کیا۔

اس نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر واپس لے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرے جس کا مقصد اس کی آبادی، سیاسی یا قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 6 فروری بروز جمعہ دن گیارہ بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔