وزیراعظم کے پاور سیکٹر اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت توانائی شعبے میں جامع اور دیرپا اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے: وفاقی وزیر سردار اویس لغاری

10

اسلام آباد، 12فروری(اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے پاور سیکٹر اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت توانائی کے شعبے میں جامع اور دیرپا اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے، جن کے مثبت اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔

 “وزیراعظم فین ری پلیسمنٹ پروگرام” کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب کے رجحانات میں تبدیلی آ رہی ہے، خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی اور سولرائزیشن کے فروغ سے توانائی کے نظام میں نئے تقاضے اور چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے کو صاف اور ماحول دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے اور قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کے حصول میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جو مستقبل کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔

سردار اویس لغاری نے کہا کہ توانائی اصلاحات ایک اجتماعی حکومتی کاوش کا نتیجہ ہیں، جن میں وزیراعظم کی قیادت، وفاقی کابینہ اور متعلقہ اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اصلاحات مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر طویل المدتی استحکام اور بہتری کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں، اسی لیے حکومت نے مفادِ عامہ کو مقدم رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کے ڈھانچے، نیٹ میٹرنگ ضوابط اور نجی شعبے کے ساتھ معاہدوں سمیت مختلف امور میں اصلاحات کا مقصد نظام کو زیادہ شفاف، متوازن اور پائیدار بنانا ہے تاکہ صارفین اور معیشت دونوں کو فائدہ پہنچے۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ فین ری پلیسمنٹ پروگرام توانائی بچت، کاربن اخراج میں کمی اور صارفین کو مالی ریلیف فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ توانائی بچانے والے پنکھوں کے استعمال سے بجلی کی مجموعی طلب میں کمی، نظام کی کارکردگی میں بہتری اور عوام کے اخراجات میں بچت ممکن ہوگی۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، کیونکہ یہ نہ صرف گھریلو بجٹ میں آسانی پیدا کرے گا بلکہ ملک کے توانائی نظام کو مستحکم اور ماحول دوست بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو ایک مسابقتی، مستحکم اور پائیدار توانائی منڈی میں تبدیل کیا جا سکے۔