وفاقی وزیرِ خزانہ کا وزیراعظم کے فین ری پلیسمنٹ پروگرام کیلئے مکمل تعاون کا اعادہ، بجٹ میں 2 ارب روپے مختص

14

اسلام آباد، 12فروری(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیرِ اعظم کے فین ری پلیسمنٹ پروگرام کے لیے وزارتِ خزانہ کی جانب سے مکمل تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے اسے توانائی کے تحفظ، مالیاتی ذمہ داری اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ وزارتِ خزانہ کے نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ اعلیٰ ترجیح رکھتا ہے اور وزارتِ خزانہ پاور ڈویژن کو ہر ممکن معاونت فراہم کرتی رہے گی تاکہ اس پروگرام کو مؤثر اور تیز رفتار انداز میں وسعت دی جا سکے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے بجٹ میں دو ارب روپے مختص کیے ہیں جو 10 فیصد فرسٹ لاس رسک گارنٹی کے طور پر استعمال ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد بینکاری اداروں کو اس پروگرام میں فعال شرکت کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ فین ری پلیسمنٹ کے لیے درخواست دینے والے صارفین کو آسانی سے فنانسنگ فراہم کر سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز آج کیا گیا ہے، تاہم اس کا پائلٹ مرحلہ پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکاری صنعت کے تعاون سے مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس پائلٹ مرحلے میں 11 بینک شریک رہے اور اب تک تقریباً 186 توانائی بچانے والے پنکھے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار روپے کی تقسیم 67 مستفیدین کو کی جا چکی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے اسے ایک مثبت آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل نظام، درخواست اور ادائیگی کا طریقہ کار مؤثر طور پر فعال ہو چکا ہے۔

انہوں نے وفاقی وزیر برائے توانائی، جناب اویس لغاری، کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگلا مرحلہ اس پروگرام کو اسٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں کے تعاون سے تیزی سے وسعت دینا ہے تاکہ اس کے فوائد کو 10 سال کی مدت کے بجائے جلد از جلد عوام تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ خزانہ توانائی کے تحفظ، مالیاتی استحکام اور پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔