اسلام آباد، 12فروری(اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا فہد ہارون نے کہا ہے کہ قازقستان کے صدر کا حالیہ دورہ پاکستان ہمارے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، سفارتی کامیابی کی اصل کسوٹی صرف دستخط شدہ دستاویزات نہیں بلکہ ان کا ایسے ٹھوس نتائج میں ڈھلنا ہے جو ہمارے عوام کے لیے فائدہ مند ہوں، پاکستان-قازقستان تعلقات کا مستقبل صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ بالآخر افراد سے تشکیل پائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) اور قازقستان کے سفارتخانہ کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا عنوان‘‘ پاکستان-قازقستان تعلقات: دور صدارت کے بعد کے تاثرات اور تزویراتی تعاون کے راستے’’ تھا۔
کانفرنس میں ڈائریکٹر آئی ایس ایس آئی ڈاکٹر طلعت شبیر، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی سفیر خالد محمود، پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرزھان کستافن، کوآرڈینیٹر جنرل، او آئی سی-کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی فہد ہارون نے کہا کہ جمہوریہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقائیف کا حالیہ دورہ پاکستان ہمارے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دورہ مشترکہ وژن، باہمی اعتماد اور ہم آہنگ قومی مفادات کا ایک تزویراتی تجدید عہد تھا۔ تزویراتی شراکت داری سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط پاکستان-قازقستان تعلقات کو باضابطہ طور پر نئی بلندی پر لے جانے کا مظہر ہیں اور طویل المدتی تعاون کے لیے ایک پائیدار سیاسی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس بجا طور پر علامتی پہلو سے آگے بڑھ کر عملدرآمد پر توجہ دینے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان علاقائی روابط کے فطری شراکت دار ہیں، وسطی ایشیا کے ایک کلیدی مرکز کے طور پر قازقستان کا کردار اور پاکستان کی بحیرہ عرب تک رسائی کے دروازے کے طور پر حیثیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہے، نقل و حمل، لاجسٹکس اور بحری تعاون کے شعبوں میں طے پانے والے وسیع معاہدات اسی تزویراتی منطق کی عکاسی کرتے ہیں۔
فہد ہارون نے کہا کہ قازقستان کی ریلوے اور لاجسٹکس اداروں اور پاکستان کی نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے درمیان تعاون، آکتائو کو کراچی اور گوادر سے جوڑنے کے لیے جڑواں بندرگاہی انتظامات اور ڈاک و بحری حکام کے درمیان بہتر تعاون اجتماعی طور پر ایک ہموار شمال-جنوب رابطہ راہداری کو فعال بنانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ ان اقدامات میں ٹرانزٹ کے وقت اور لاگت میں نمایاں کمی، تجارتی حجم میں اضافہ اور وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا اور عالمی منڈیوں کے ساتھ زیادہ گہرائی سے مربوط کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدات بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ اور کسٹمز تعاون کا معاہدہ پیش بینی کے قابل، محفوظ اور موثر تجارتی بہائو کے لیے سازگار فریم ورک فراہم کرتے ہیں، زرعی شعبہ، ویٹرنری سائنسز، نباتاتی تحفظ، کپاس کی تحقیق اور معیار بندی سے متعلق مخصوص اقدامات ایسے شعبوں پر عملی توجہ کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں ابتدائی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبے اور سرمایہ کاری پلیٹ فارم خاص اہمیت کے حامل ہیں جن میں تعمیراتی مواد، چینی کی پیداوار، فرش سازی کی صنعت اور بڑے قومی ہولڈنگ اداروں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری پلیٹ فارم کا قیام شامل ہے، یہ اقدامات محض لین دین پر مبنی تجارت سے طویل المدتی، قدر میں اضافے پر مبنی صنعتی تعاون کی جانب منتقلی کی علامت ہیں جو پاکستان کے معاشی تغیر کے ایجنڈے اور قازقستان کے تنوع کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی اور قدرتی وسائل میں تعاون اس تزویراتی شراکت داری کا ایک اور ستون ہے، کان کنی، ارضیاتی علوم، پٹرولیم اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں طے پانے والے معاہدات اور مفاہمتیں اس امر کا اعتراف ہیں کہ توانائی کے تحفظ اور وسائل کی ترقی پائیدار ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان-قازقستان تعلقات کا مستقبل صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ بالآخر افراد سے تشکیل پائے گا، اس ضمن میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کی وسعت نہایت حوصلہ افزاء ہے۔ الفارابی مرکز، ستبایف سینٹر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور یساوی مرکز جیسے خصوصی مراکز کا قیام، نیز جامعات کے درمیان متعدد معاہدات، تعلیمی تبادلوں، مشترکہ تحقیق اور اختراع پر مبنی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیں گے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ترقی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک ضابطہ کاری، خلائی تحقیق اور اختراعی ماحولیاتی نظاموں میں تعاون جیسے شعبوں میں آستانہ حب اور پاکستان کے قومی ٹیکنالوجی اداروں کے درمیان روابط شامل ہیں۔
فہد ہارون نے کہا کہ سلامتی کے تعاون، جرائم کے انسداد، حوالگیِ ملزمان اور امن مشنز سے متعلق معاہدات سرحد پار چیلنجز سے نمٹنے میں مشترکہ ذمہ داریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ علاقائی استحکام، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے حوالے سے خیالات کے اشتراک کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار اراکین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے فعال شرکا کی حیثیت سے پاکستان اور قازقستان باہمی سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی، ابلاغی، سیاحت، کھیل، صحت اور ماحولیاتی تعاون اس شراکت داری کو انسانی پہلو فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں، اہل علم اور عملی میدان سے وابستہ افراد کو یکجا کر کے یہ کانفرنس ایک اہم مقصد کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ ترجیحات کے تعین، عمل درآمد کی رکاوٹوں کے ازالے اور قابلِ عمل فالو اپ طریقہ کار کی تجویز کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ تزویراتی شراکت داریاں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب انہیں مسلسل مکالمے، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور باخبر عوامی مباحثے کی حمایت حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قازقستان کو صرف ایک دوطرفہ شراکت دار نہیں بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے وسیع تر تعلقات کا ایک کلیدی ستون سمجھتا ہے۔ حالیہ صدارتی دورے سے پیدا ہونے والی رفتار کو برقرار رکھنا اور اسے مستقل پیش رفت میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے، اس کے لیے دونوں جانب عزم، ہم آہنگی اور تسلسل درکار ہے۔











