وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیدرلینڈز کے سفیر برائے انسانی حقوق اور سویڈن کی سفیر کی مشترکہ ملاقات

14

اسلام آباد، 10 فروری ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیدرلینڈز کے سفیر برائے انسانی حقوق وِم گیرٹس اور سویڈن کی سفیر ایرینا شوگلِن نیونی نے مشترکہ ملاقات کی۔ ملاقات میں انسانی حقوق کے فروغ اور دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دوران ملاقات وفاقی وزیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نافذ العمل ہونے والا آئی سی ٹی گھریلو تشدد ایکٹ 2026 خواتین و بچوں کے تحفظ کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے ادارے بشمول NCHR، NCSW اور NCRC مکمل فعال ہیں، جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو اس کی شفافیت پر عالمی ادارے GANHRI کی جانب سے ’اے اسٹیٹس‘ ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ تعزیراتِ پاکستان میں ترامیم کے ذریعے سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی اور حراستی اموات کی روک تھام کا ایکٹ 2022 عدالتی احتساب کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور انہیں بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

ملاقات میں غیر ملکی وفد نے بچوں کی شادیوں کے خاتمے کے لیے آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت اظہارِ رائے کی آزادی اور شہریوں کے تحفظ کے مابین توازن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران توہینِ مذہب کے مقدمات میں بھی کمی آئی ہے۔

 غیر ملکی سفیروں نے پاکستان میں جاری قانونی اصلاحات اور سول سوسائٹی کے تعمیری کردار کی تعریف کرتے ہوئے مستقبل میں بھی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔