پاکستان اورکمبوڈیا کا دوطرفہ اقتصادی تعاون کوعملی تجارتی اورصنعتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار

11

اسلام آباد،11 فروری (اے پی پی): پاکستان اور کمبوڈیا نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو عملی تجارتی اور صنعتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور سپلائی چین روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کمبوڈیا کے وزیر تجارت چام نِمل کی قیادت میں وفود کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی،جس میں دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے اور صنعتی روابط مضبوط بنانے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران پاکستان کو اعلیٰ معیار کے کپڑوں، ہوم ٹیکسٹائل اور خام مال کے قابلِ اعتماد متبادل سپلائر کے طور پر پیش کیا گیا،جبکہ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس ویلیو چین میں قریبی انضمام پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے 300 ارب ڈالر مالیت کی عالمی ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مارکیٹ میں مشترکہ تعاون کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔

فارماسیوٹیکل شعبے میں برآمدات بڑھانے اور ادویات کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر غور ہوا۔ پاکستان کے علاقائی رابطہ کاری کردار اور لاجسٹکس حب کے طور پر امکانات بھی اجاگر کیے گئے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کمبوڈیا کے ساتھ تجارت کو عملی صنعتی و کاروباری شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل تعاون میں مشترکہ ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں اور سپلائی چین انضمام سے خطے میں مسابقت بڑھے گی۔

کمبوڈیائی وزیر تجارت چام نِمل نے پاکستان کے ساتھ صنعتی اورسپلائی چین تعاون مزید گہرا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز،لاجسٹکس اور حلال سرٹیفکیشن میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مستقبل کا تعاون متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی ہونا چاہیے۔

اجلاس میں صنعت سے صنعت روابط، تجارتی نمائشوں کے کیلنڈر کی پیشگی شیئرنگ، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، آئی سی ٹی، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔

دونوں ممالک نے پاک–کمبوڈیا مشترکہ تجارتی کمیٹی کو دوطرفہ اقتصادی ایجنڈا آگے بڑھانے کا مرکزی فورم قرار دیتے ہوئے پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔