اقوامِ متحدہ، 10 فروری ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے جنوبی سوڈان کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جنوبی سوڈان کی موجودہ صورتِ حال کو نہایت نازک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بروقت اور فیصلہ کن اقدامات میں ناکامی کے نتائج جنوبی سوڈان کے عوام اور پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ناکامی کی قیمت سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جنوبی سوڈان کے عوام کو چکانا پڑے گی، اور اس کے گہرے علاقائی اثرات بھی ہوں گے۔ یہ دوری یا لاتعلقی کا نہیں بلکہ مزید گہرے اور مؤثر رابطے کا وقت ہے۔انہوں نے جنوبی سوڈان میں تنازع کے حل سے متعلق احیائے معاہدے کو سیاسی اعتماد کی بحالی، انتشار سے بچاؤ اور ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے واحد قابلِ عمل اور متفقہ فریم ورک قرار دیا۔
انہوں نے تمام جنوبی سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاہدے سے اپنی وابستگی کی تجدید کریں اور اختلافات کو جامع اور بامعنی مکالمے کے ذریعے حل کریں، تاکہ قومی اتفاقِ رائے کو فروغ دیا جا سکے۔جنوبی سوڈان میں بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتِ حال، بین النسلی تشدد اور علاقائی سطح پر اثرات کے تناظر میں یو این ایم آئی ایس کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل نمائندے نے مطالبہ کیا کہ اس مشن کو فعال، وسائل سے بھرپور اور مضبوط رکھا جائے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی مشکلات کے امن مشنز پر منفی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ یو این ایم آئی ایس کی صلاحیت میں کمی، بشمول فوجیوں کی تعداد اور گشت میں کمی، شہریوں کے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی واجب الادا مالی ذمہ داریاں مکمل اور بروقت ادا کریں، کیونکہ یو این ایم آئی ایس شہریوں کے تحفظ اور جنوبی سوڈان میں استحکام کے قیام میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے جنوبی سوڈان کے امن عمل میں افریقی قیادت میں ہونے والی علاقائی کوششوں کی کلیدی اہمیت پر بھی زور دیا۔











