یومِ یکجہتی کشمیر: اقوام متحدہ میں مقررین نے قابض طاقت کو سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا

17

اقوام متحدہ،06 فروری(اے پی پی ): غیر قانونی بھارتی قابض جموں و کشمیر کے کشمیری عوام اور طویل اور ظلم و ستم سے بھرپور غیر ملکی قبضے کا سامنا کرنے والے فلسطینی عوام کی مشکلات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ ضمنی اجلاس کے مقررین نے کہا  ہےکہ افریقہ سے لے کر ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے لاطینی امریکہ تک لاکھوں لوگوں کے لیے سماجی ترقی محض ایک مجرد خیال نہیں بلکہ روزمرہ کی جدوجہد ہے۔

مقررین نے کہا کہ تنازع، قبضے اور عدم استحکام کے سائے تلے زندگی گزارنے کی حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تنازع صرف انسانی بحران پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ سماجی ترقی اور انصاف کے لیے سب سے اہم ساختی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔

یہ تقاریر سفارت کاروں، علمی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کے ایک معزز پینل نے یومِ یکجہتی کشمیر کے ضمنی اجلاس “کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں: تنازع سے متاثرہ اور قابض علاقوں میں سماجی ترقی کے چیلنجز” کے دوران کیں، جو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں کمیشن برائے سماجی ترقی کے 64 ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں خطاب کرنے والوں میں مستقل مندوب پاکستان برائے اقوام متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد، مستقل مندوب  ترکی سفیر احمد یلڈیز، اور او آئی سی –سی ایف ایم کے چیئرمین سفیر حمید اجیبائیے اوپیلویرو، مستقل مبصر، تنظیمِ تعاونِ اسلامی برائے اقوام متحدہ، عبد الحمید سیام، فلسطینی صحافی و مصنف، ڈاکٹر غلام نبی فائی، چیئرمین، ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس شامل تھے، نیو یارک میں پاکستان کے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی نے اختتامی کلمات پیش کیے۔

  اپنے افتتاحی کلمات میں، سفیر عاصم افتخار احمد، جنہوں نے اجلاس کی صدارت بھی کی، نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کے لیے قبضہ ایک مستقل حالت ہے جو سات دہائیوں سے جاری ہے اور ان کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوا ہے۔