اسلام آباد، 26مارچ(اے پی پی): وفاقی وزیر امور کشمیر گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی عدالتیں کشمیریوں کے خلاف مذموم عزائم کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور کشمیری رہنماؤں کو بے بنیاد مقدمات میں سزائیں دی جا رہی ہیں۔
سنیر حریت رہنماؤں آسیہ اندرابی صاحبہ کو بھارتی عدلیہ کی جانب سے عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 ،30 سال کی سزائیں سنائے جانے کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیری خواتین بھارتی بربریت کا شکار ہوئی ہیں۔ بھارتی مظالم اور بربریت کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت متزلزل نہیں ہوا۔ بھارتی ہتھکنڈے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ آسیہ اندرابی نے کشمیر کی آزادی میں بڑا کردار ادا کیا۔انڈین کسٹڈی میں بتیس ہزار لوگوں کی شہادتیں ہوئی ،لاکھوں گھر مسمار کر دیے گئے، آج بھی ہزاروں کی تعداد میں کشمیری انڈین جیلوں میں موجود ہیں۔انڈیا مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا، ہم بھارتی عدالت کے فیصلے کی بھرپور مذمت اور اس سے مسترد کرتے ہیں۔آج بھی کشمیریوں کی زبان پر پاکستان کا نعرہ ہے، انڈیا میں میڈیا کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے، مساجد میں تالے لگائے گئے ہیں ،یکطرفہ اقدامات سے اپنے آئین کے آرٹیکل کو انڈیا نے ختم کیا ، انڈیا نے کشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، ان سارے حربوں کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد جاری ہے۔ وزیر اعظم محمدشہباز شریف نے اور نائب وزیر اعظم ، محمد اسحاق ڈار نے پوری دنیا میں کشمیر کی نمائندگی کی۔











