اسلام آباد، 31 مارچ (اے پی پی ):وائس چانسلر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ سی پیک منصوبے صرف انفراسٹرکچر کی ترقی نہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں، جہاں پاکستانی اور چینی عملہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی تعاون کے ذریعے نئی مثالیں قائم کر رہا ہے۔
آج بروز منگل سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے پاکستانی اور چینی عملے کے لیے منعقدہ سالانہ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والے پاکستانی اور چینی عملے کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ترقی کے عمل میں انسانی وسائل کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی کا اصل دارومدار اس سے وابستہ افرادی قوت کی محنت، مہارت اور استقامت پر ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر درحقیقت افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی برتری (ہیومن ایکسیلینس) کا تصور اسی وقت حقیقت بنتا ہے جب افراد میں قابلیت، عزم اور باہمی اشتراک کو فروغ دیا جائے، اور یہی عناصر سی پیک کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے ایوارڈ یافتگان نہ صرف اپنی کارکردگی پیش کر رہے ہیں بلکہ وہ مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان کی خدمات پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دوستی اور اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جس نے ملک کو نئی سمت دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی ہے۔آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک کے تحت جاری منصوبے پاکستان کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور پاکستان-چین دوستی کے فروغ میں مزید مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔











