پاکستان کا جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے تین انڈونیشیائی امن دستوں کے اہلکاروں کے قتل کی فوری و غیر جانبدارانہ  تحقیقات کا مطالبہ

60

 

نیویارک ۔31 مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ  میں   پاکستان نے جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے تین انڈونیشیائی امن دستوں کے اہلکاروں کے قتل کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔  پاکستان   کی جانب  سے یہ مطالبہ اقوام متحدہ  کی سلامتی کونسل  کے  اسرائیل سے متصل جنوبی لبنان کی صورتحال پر  بلائے گئے ہنگامی اجلاس   میں کیا گیا ۔  پاکستان نے کہا ہے کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے تحت خدمات انجام دینے والے تین انڈونیشیائی امن محافظوں کا قتل افسوسناک اور نہایت تشویشناک واقعات ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی روح پر حملہ ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی کونسل کو بتایا کہ ‘‘یہ الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں’’ ۔ یہ اجلاس فرانس کی درخواست پر بلایا گیا تھا، جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں شدت آئی اور اقوام متحدہ کی عبوری فورس   کو بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ کونسل کو امن محافظوں کے خلاف اس طرح کے تشدد کو معمول بننے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ یہ مشنز اسی کے مینڈیٹ کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کا تحفظ اس کی اولین ذمہ داری ہے۔خطے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 600 سے زائد شہری جاں بحق، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر اور شہری انفراسٹرکچر کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ جاری لڑائی اور جھڑپیں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں اور شہریوں اور امن محافظوں دونوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہیں۔ یہ پیشرفت لبنانی حکومت کے امن اور استحکام کے لیے کیے گئے جرات مندانہ اقدامات اور پالیسی فیصلوں کو کمزور کر رہی ہے۔ ہمیں ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے اور کونسل کو لبنان کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔پاکستانی مندوب نے  مزید کہا کہ 29 اور 30 مارچ کو انڈونیشیائی امن محافظوں کا قتل اقوام متحدہ کی عبوری فورس   پر حملوں کے ایک تشویشناک سلسلے کا حصہ ہے، اور مشن کو مسلسل جارحانہ رویے اور آپریشن کی آزادی پر پابندیوں کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور ایک بڑا فوجی دستے فراہم کرنے والا ملک، ہم اس گہرے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انڈونیشیا کی حکومت و عوام اور شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔سفیر عاصم احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کا عملہ غیر جانبدار امن کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہیں نشانہ بنانا ایک سنگین خلاف ورزی ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کو نقصان پہنچاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جوابدہی نہایت ضروری ہے اور حقائق معلوم کرنے کے لیے فوری، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات  کی جانی چاہیئں ۔سفیر عاصم احمد نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حتمی مقصد فوری کشیدگی میں کمی، ضبط و تحمل، تمام دشمنیوں کا مکمل خاتمہ اور تمام مسائل کا پرامن حل ہونا چاہیے تاکہ خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید خراب نہ ہو۔