وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹیکس وصولی کے ادارے کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد

11

 اسلام آباد،  10 مارچ ( اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ٹیکس وصولی کے ادارے کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ٹیکس محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے نظام کے دائرہ کار میں لایا جائے جبکہ محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کے سدباب کے لیے عملدرآمد کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

اجلاس میں پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی بھرتیوں اور ادارے کو فعال بنانے پر معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

وزیر اعظم نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ملک میں تیار کردہ ادویات کی سیریئلائزیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

‎وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے خودکار ٹیکس نظام، ڈیجیٹل انوائسنگ نظام، آئرس اور دیگر ایپلی کیشنز کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

‎اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد نظام نافذ العمل ہیں جبکہ کئی مزید نظام جلد فعال ہو جائیں گے۔ پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو تجزیہ، یونٹ گنتی، بارکوڈ اسکیننگ، اسٹیمپنگ اور سیریئلائزیشن سمیت دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

‎بریفنگ میں بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کے تمام کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی کی جا رہی ہے جس سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکسٹائل، چمڑے، کاغذ، آٹوموبائل اور مشروبات سمیت دیگر شعبوں میں بھی نگرانی کے اقدامات جاری ہیں جن سے اربوں روپے اضافی ٹیکس آمدنی متوقع ہے۔

‎اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے متبادل تنازعاتی حل کمیٹیوں کے قانون میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے تیس جون دو ہزار چھبیس تک ٹیکس کی مد میں اسی ارب روپے آمدن وصول ہونے کی توقع ہے۔

‎بریفنگ کے مطابق جولائی دو ہزار پچیس سے جنوری دو ہزار چھبیس تک ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو ایک سو دو اعشاریہ نو ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی جبکہ جون دو ہزار چھبیس تک زیر التواء مقدمات سے تین سو انہتر ارب روپے ٹیکس آمدن متوقع ہے۔

‎اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹو ٹیم فعال ہو چکی ہے اور ادارے کا ڈیجیٹل انوائسنگ نظام مکمل طور پر فعال ہے۔ جنوری اور فروری کے مہینوں میں آٹھ سو ارب روپے کی ڈیجیٹل انوائسنگ ہو چکی ہے جبکہ اپریل دو ہزار چھبیس تک تین کھرب روپے کی ڈیجیٹل انوائسنگ کا ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے۔

‎بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ٹیکس وصولی کے ادارے کا جدید ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے۔ ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام اور کارگو کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ کا نظام متعارف کرا دیا گیا ہے جس میں بالخصوص ای بلٹی نظام شامل ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے مربوط عالمی محل وقوعی نظام پر مبنی ٹریکنگ نظام بھی نافذ کیا جا چکا ہے۔