وفاقی وزیر تعلیم کا “کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کے ذریعے تعلیمی انقلاب کا عزم

25

اسلام آباد، 3 مارچ (اے پی پی ):وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے “کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفر ملک کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہیے تھا تاہم دیر سے سہی مگر اب اس کا آغاز ہو چکا ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا دین ہے اور وہ دین جس کا آغاز لفظ “اقرأ” سے ہوتا ہے تاکہ کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم محض پڑھنے لکھنے کا نام نہیں بلکہ اس میں تربیت، ہنر، اخلاق اور دانش سب شامل ہیں۔ بحیثیت قوم ہمیں ایک عالمی تعلیمی معیشت کا سامنا ہے جہاں کل کے کسان سے بھی پڑھا لکھا ہونے کا تقاضا کیا جا رہا ہے اور مزدور سے بھی اسناد طلب کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم، تربیت، ہنر اور آگہی کا راستہ ہی واحد راستہ ہے اور یہ ضرورت سے بڑھ کر مجبوری بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم صوبائی ذمہ داری ہے اور انہیں امید ہے کہ صوبے بالخصوص بنیادی اور ابتدائی تعلیم کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرتے ہوئے اسے مقامی حکومتوں کے سپرد کریں گے تاکہ گلی گلی اور ہر یونین کونسل تک یہ ذمہ داری پہنچ سکے اور پورا معاشرہ اس جدوجہد میں شریک ہو۔

انہوں نے مساجد، مدارس اور دینی طبقات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ آئندہ چند برسوں میں پاکستان کو تعلیم کے میدان میں عالمی سطح پر کسی سوال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم کے پاس دارالحکومت اور اس سے ملحقہ علاقوں کی ذمہ داری موجود ہے جسے ایک ماڈل کے طور پر پورے ملک بلکہ خطے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب تک ہر بچے کو وہی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں جو ملک کے خوشحال طبقات کے بچوں کو میسر ہیں اس وقت تک قیام پاکستان کا مقصد اور ان قربانیوں کا خواب پورا نہیں ہو سکتا جو لاکھوں افراد نے دی تھیں۔ انہوں نے حاضرین، اساتذہ اور بچوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا آغاز اس عزم کے ساتھ کیا جائے کہ اس کی آواز پورے ملک میں گونجے اور آئندہ دس برس بعد یہ محسوس ہو کہ آج ایک درست وقت پر درست قدم اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان زیادہ تعلیم یافتہ، باشعور اور عالم اسلام کے لیے قابل تقلید ملک بن کر ابھرے۔