پاکستان کی حقیقی تبدیلی کا انحصار  موثر حکمرانی پر ہے ،احسن اقبال

9

اسلام آباد،27مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی تبدیلی کا انحصار موثر حکمرانی پر ہے ، مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ادھوری رہے گی ، موجودہ معاشی و انتظامی چیلنجز کے تناظر میں شواہد پر مبنی اصلاحات کو فوری عملی شکل دینا، خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، شفاف مالیاتی نظم و نسق کو فروغ دینا اور وفاقی، صوبائی و ضلعی سطح پر ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطح کے پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی ہی تبدیلی اور جمود کے درمیان اصل فرق پیدا کرتی ہے اور یہ شہریوں کی روزمرہ زندگی میں خدمات کی فراہمی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں منصوبوں کی کمی نہیں بلکہ مسئلہ موثر عملدرآمد اور ادارہ جاتی کمزوری ہے اس لئے روایتی طریقہ کار ترک کر کے جامع اور نتیجہ خیز اصلاحات اپنانا ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ اصلاحات میں صوبائی اور نچلی سطح کو یکساں اہمیت دی جائے اور اس عمل میں حکومت کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینکس، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کا کردار بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کا اصل چیلنج اپنی صلاحیت کو عملی کارکردگی میں بدلنا ہے جو صرف بہتر حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔

اس موقع پر یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندہ سموئیل رزق نے کہا کہ عالمی سطح پر ترقیاتی وسائل محدود ہونے کے باوجود حکمرانی کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کی وہ مستحق ہے حالانکہ پائیدار ترقی کے لئے یہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس این جی ٹو پروگرام نے مضبوط اداروں کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو بحرانوں اور مالی مشکلات کا مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے مقامی سطح پر مضبوطی کو موثر حکمرانی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکمرانی کی اصلاحات کی ملکیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور انہیں قومی بجٹ اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔ قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور علاقائی تبدیلیاں حکمرانی کے نظام کو زیادہ متحرک اور موثر بنانے کی متقاضی ہیں۔ ا

نہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ”اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت ہونے والی حالیہ قومی سطح کی گفتگو کو صوبائی تناظر میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اقدامات کو وسعت دے کر ہم قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یو این ڈی پی کی نائب نمائندہ وان نگوین نے کہا کہ ایس این جی ٹو پروگرام کا مقصد صوبائی سطح پر منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی آزادانہ تحقیق آئندہ اصلاحات کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔برطانوی ادارے ایف سی ڈی او کے نمائندہ میٹ کلینسی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات کی گئیں جن میں منصوبہ بندی کے نظام، ڈیجیٹل پی سی ون عمل، آڈٹ نظام، پنشن اصلاحات اور مربوط بجٹ سازی شامل ہیں۔

ایس ڈی پی آئی کے عرفان چٹھہ نے تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی سطح پر تکنیکی ماہرین کو برقرار رکھنا، اصلاحات کو قانونی تحفظ دینا اور صوبائی آئی ٹی بورڈز کے ساتھ بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ ڈیجیٹل حکمرانی کے نظام کو دیرپا بنایا جا سکے۔

ماہرِ حکمرانی سلیمان غنی نے کہا کہ مستقبل کے پروگراموں کو حکومتی اصلاحاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی پائیداری اور ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے۔مکالمے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہایس این جی ٹو پروگرام کے تحت متعارف کرائی گئی اصلاحات، جیسے تکنیکی معاونت، اصلاحاتی ورکنگ گروپس اور ڈیجیٹل نظام، پاکستان میں نچلی سطح کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات کی بہتری کیلئے قابلِ عمل اور موثر نمونہ فراہم کرتی ہیں۔