وزیراعظم کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ،  56 ارب روپے کا اضافی بوجھ  حکومت خود برداشت کرے گی، شہباز شریف

15

اسلام آباد،27مارچ  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں  95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی۔

جمعہ کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  وہ قوم سے ایسے وقت پر مخاطب ہیں جب پاکستان دو محاذوں پر انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے، ایک طرف ہم اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عوام کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں  قیامت خیز اضافے سے بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہیں،جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان سفارتی سطح پر ثالثی کی بھرپور اور پرخلوص کوششیں کر رہا ہے تاکہ خطہ اور برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ اور اس کے منفی اثرات سے نجات پائیں اور اجتماعی مشاورت اور دانشمندی سے پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی اور سادگی اور کفایت شعاری کی مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام آدمی پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے وقف کر دیے ہیں تاکہ تاریخ کی اس مشکل گھڑی میں جہاں تک ممکن ہو سکے حکومت عوام کو ان مشکلات سے بچانے کے لیے حتی المقدور وسائل عوام کے قدموں میں نچھاور کرے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے حساب سے آج کے دن پاکستان میں پٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر ہونی چاہیئے تھی لیکن پاکستان کی عوام اسے صرف 322 روپے میں حاصل کر رہے ہیں ،اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی آج کے دن پاکستان میں 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیئے تھی لیکن حکومت  ڈیزل صرف 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں کے یہ اعداد و شمار شاید گنتی لگتے ہوں لیکن حقیقت میں متواتر تین ہفتوں کے اندر 125 ارب روپے کا تاریخی بوجھ  حکومت نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے تاکہ عوام کے کندھے اس بوجھ سے نہ جھکنے پائیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ   کفایت شعاری اب اختیاری نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے، دنیا بھر کے ممالک میں قیمتیں دو گنا ہو چکی ہیں اور وہاں پر پٹرول پمپس پر عوام کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور قیمتیں عوام کے بس سے باہر ہیں اور وہ حکومتیں بے بس ہو چکی ہیں لیکن آپ کی حکومت نے اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اور موثر اقدامات سے مہنگائی کے اس طوفان کو اب تک  عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے ۔