اسلام آباد،29مارچ (اے پی پی):پاکستان،سعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تنازعات کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے، سفارتکاری اور مشکل حالات میں امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہےجبکہ سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نےخطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کے لئے حمایت کا اظہار کیا ہے-
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا ہے،ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔
اتوار کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے دوسرے مشاورتی اجلاس کے اختتام پر وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزراء خارجہ میری دعوت پر پاکستان میں موجود ہیں، تینوں وزرائے خارجہ کے ساتھ نہایت نتیجہ خیز دوطرفہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، تینوں وزرائے خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ تینوں وزرائے خارجہ کے اس دورے کا مقصد پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کے دوسرے اجلاس میں شرکت تھا، جو اسلام آباد میں منعقد ہوا ہمارا پہلا اجلاس 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہوا تھا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیااور خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازعہ وسیع تر خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہےجو انتہائی افسوسناک ہے،ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کا نتیجہ صرف موت اور تباہی کی صورت میں نکلے گا ان مشکل حالات میں امت مسلمہ کا اتحاد نہایت اہم ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا اور مہمان وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔وزرائے خارجہ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے، کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بشمول تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔وزرائے خارجہ نے چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے تہہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے اپنے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا ہے،پاکستان اس تنازعے کے خاتمے کے لیے تمام کوششوں اور اقدامات میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے،پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی نہایت اہم تعلقات ہیں،ہم نے صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کے تحت امریکی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھا ہے۔اس تناظر میں، پاکستان کو خوشی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو اپنے لیے اعزاز سمجھے گاتاکہ جاری تنازعے کا جامع اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، چین نے ایران-امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کی ہے،اسی طرح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جنہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔میں نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بھی متعدد ٹیلیفونک گفتگوکی جنہوں نے ہماری کوششوں پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ہمارے تمام دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو بھرپور سراہا اور سپورٹ کیا جا رہا ہے ہم خلوص اور عزم کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو اس کوشش کی کامیابی کے لیے پوری عالمی برادری کی دعاؤں اور حمایت کی ضرورت ہوگی، تاکہ امن قائم کیا جا سکے اور اس جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن ہو۔











