انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

9

اقوامِ متحدہ، 9 اپریل ) اے پی پی): پاکستان نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملے شہریوں کے تحفظ کے پورے نظام کو کمزور کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2730 پر فوری اور مستقل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ جان بچانے والی امداد فراہم کرنے اور اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹس پر عمل کرنے والوں کا احترام اور تحفظ کیا جا سکے۔

مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ بحث محض امدادی کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے کی سلامتی تک محدود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا بین الاقوامی برادری ان لوگوں کے دفاع کے لیے تیار ہے جو شہریوں اور تباہی کے درمیان حائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کا عملہ بشمول امن دستے انتہائی خطرناک ماحول میں کام کرتے ہیں خوراک ادویات اور پناہ فراہم کرتے ہیں زمینی سطح پر مینڈیٹس کو برقرار رکھتے ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کم از کم ضروری حالات کو قائم رکھتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب ان پر حملے ہوتے ہیں انہیں روکا جاتا ہے یا دھمکایا جاتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ حملوں میں مسلسل اضافہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں خطرناک کمی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ واقعات ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں جس میں مسلح تنازعات کے ضوابط کو بڑھتی ہوئی بے خوفی کے ساتھ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں اور اقوامِ متحدہ کی ذمہ داریوں کو انجام دینے والوں کا تحفظ نہ کیا گیا تو شہریوں کے تحفظ کی پوری عمارت کمزور ہو جائے گی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ قرارداد 2730 مسلح تنازعات کے تمام فریقوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں بشمول مقامی امدادی کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے کا احترام اور تحفظ کریں۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل کی سفارشات کا خیرمقدم کیا اور انہیں ایک مفید فریم ورک قرار دیا تاہم کہا کہ اب ترجیح سنجیدہ فوری اور مستقل عملدرآمد ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس حوالے سے چھ ترجیحات پیش کیں۔

اول انہوں نے کہا کہ تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور ہر حال میں انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے بشمول امن دستوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

دوم انہوں نے احتساب کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ عدم سزا دہی ایسے واقعات کو دہرانے کا باعث بنتی ہے تحقیقات فوری غیرجانبدار شفاف اور مؤثر ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سوم انہوں نے کہا کہ جب سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود حالات میں خطرات وسیع یا منظم نوعیت اختیار کر لیں تو کونسل کو مؤثر ردعمل دینا چاہیے جس میں قرارداد 2730 کو عملی اقدامات کے ذریعے نافذ کرنا شامل ہو تاکہ حملوں کی نگرانی رجحانات کی رپورٹنگ اور تحقیقات پر عملدرآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔

چہارم انہوں نے آپریشنل منصوبہ بندی میں تحفظ کے بہتر انضمام پر زور دیا اور کہا کہ انسانی ہمدردی کے کارکن اور اقوامِ متحدہ کا عملہ اکثر مشن کی منتقلی امن دستوں میں کمی اور تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے دوران زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

پنجم انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی تک رسائی کو نہ صرف جسمانی حملوں بلکہ انتظامی رکاوٹوں جیسے ویزا میں تاخیر کسٹمز میں رکاوٹیں مواصلاتی تعطل اور دیگر پابندیوں سے بھی محفوظ بنایا جائے اور انسانی بنیادوں پر استثنا واضح اور قابل عمل ہونا چاہیے۔

ششم انہوں نے غلط معلومات گمراہ کن بیانیے اور اشتعال انگیزی کے تدارک پر زور دیا جو انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے کے خلاف دشمنی کو ہوا دیتے ہیں۔

سفیر عاصم نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کی روک تھام ثالثی اور بروقت اقدامات میں بہتر کارکردگی دکھائے تو اہلکاروں کے تحفظ میں پیش رفت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے انسانی ہمدردی کے کارکنوں اقوامِ متحدہ کے عملے اور امن دستوں کی سلامتی تحفظ اور وقار کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔